|

وقتِ اشاعت :   November 2 – 2017

گوادر: وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے فوائد اس سے کہیں زیادہ ہیں جتنے کہ نظر آتے ہیں یہ منصوبہ سب کے لیے یکساں فوائد کا حامل ہے۔

ملک کے منصوبہ اور پالیسی ساز سی پیک کو اس طرح ڈیزائن کریں کہ اس سے بلوچستان کا ہرفرد مستفید ہو سکے، بلوچستان کو اس منصوبے سے بھرپور استفادہ کرنے کے مواقعوں کی فراہمی کے لیے سی پیک کے مغربی روٹ کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے اور سی پیک سے متعلق بلوچستان کے دیگر منصوبوں کی بروقت تکمیل کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادر سمارٹ بندرگاہ سٹی کے ماسٹر پلان سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، صوبائی وزراء سردار محمد اسلم بزنجو، عبدالرحیم زیارتوال، میر سرفراز بگٹی، سینیٹر آغا شاہ زیب درانی ، اپوزیشن رہنما مولانا عبدالواسع ، رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی اور دیگر متعلقہ حکام بھی اجلاس میں شریک تھے۔

گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام کی جانب سے اجلاس کو منصوبے کی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، اجلاس میں ماسٹر پلان سے متعلق مختلف امور کے علاوہ گوادر ماسٹر پلان کی اپ گریڈیشن اور گوادر سمارٹ سٹی کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سمارٹ بندرگاہ سٹی کے مجوزہ منصوبے میں مقامی لوگوں کی تجاویز اور مشاورت بھی حاصل کی جائے اور ان کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، انہوں نے کہاکہ ماسٹر پلان کے حوالے سے ضروری قانون سازی بھی کی جائیگی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ منصوبے میں شامل ریلوے ٹریک اور شاہراہوں کی تعمیر سے معاشی اور تجارتی سرگرمیاں کو عروج ملے گا، جن سے بلوچستان سمیت ملک بھر کے عوام مستفید ہونگے، وزیراعلیٰ نے سی پیک میں شامل گوادر ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کی جلد از جلد تکمیل کی ہدایت بھی کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی رائے میں سی پیک ایک سڑک ہی نہیں بلکہ جامع معاشی سرگرمیوں کے آغاز کی بنیاد ہے، جس سے یہاں کے عوام کو ترقی کے روشن مواقع ملے گے اور وہ روایتی معاشیات سے نکل کر جدید معاشی ترقی سے روشناس ہو سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان نے تاریخی طور پر ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے، 60 کی دہائی میں جب ملک میں صنعتی ترقی کا آغاز ہو رہا تھا ،سوئی گیس کی شکل میں بلوچستان نے ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کیا اور آج جب پاکستان کو دنیا سے تجارتی رابطوں کی ضرورت ہے تو بلوچستان سی پیک اور گوادر پورٹ کی صورت میں پاکستان اور خطے کو زمینی اورسمندری راستوں کے ذریعے منسلک کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی پیک ناصرف بلوچستان اور پاکستان بلکہ پورے خطے کی معاشی اور تجارتی ضروریات پوری کرے گا۔دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ پاکستان موٹر ریلی درحقیقت امن اور ترقی کے سفر کی امین اور قومی یکجہتی کے فروغ کی بنیاد ثابت ہوئی ہے، جبکہ ریلی کے انعقاد سے خواب سے حقیقت کی جانب گامزن چین پاکستان اقتصادی راہداری کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے ایک نمائندہ وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا وفد میں علاقے کے سیاسی وقبائلی عمائدین اور تاجر برادری کے سرکردہ افراد بھی شامل تھے، جبکہ صوبائی وزراء سردار محمد اسلم بزنجو، عبدالرحیم زیارتوال، میر سرفراز بگٹی، سینیٹر آغا شاہ زیب درانی ، رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی بھی اس موقع پرموجود تھے۔ 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاک فوج کے زیر اہتمام ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی اور طویل موٹر ریلی کا کامیاب انعقاد ناصرف امن کی فتح، دہشت گردی کی شکست اور ایک پرامن پاکستان کی مظہر ہے بلکہ امن دشمن عناصر اور اقتصادی راہداری کے مخالفین کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ وہ اپنے منفی ہتھکنڈوں سے باز آجائیں کیونکہ پوری قوم بالخصوص اہل بلوچستان نے انہیں سختی سے مسترد کر دیاہے۔

انہوں نے کہا کہ ریلی کے انعقاد سے دنیا بھر کو پاکستان کی جانب سے امن کا پیغام گیا ہے، پاکستانی قوم نے جرات اور بہادری کے ساتھ دہشت گردی کو شکست دی ہے اور ہماری افواج اور سیکورٹی فورسز نے جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومتی کوششوں اور عوام کے تعاون سے بلوچستان پرامن اور سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش خطہ بن چکا ہے، ماضی کے مقابلے میں آج ایک ابھرتا ہوا بلوچستان سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہر گزرتا ہوا لمحہ بلوچستان کے لوگوں کے لیے ایک حقیقی تبدیلی لا رہا ہے اور ان کے اتحادیوں کو فخر ہے کہ وہ اس مثبت تبدیلی کے روح رواں ہیں ، وزیراعلیٰ نے وفد کے شرکاء اور گوادر کے عوام پر زور دیا کہ وہ گوادر کی ترقی کے عمل میں بھرپور شرکت کریں حکومت سی پیک میں ان کی شراکت داری کو یقینی بنائے گی تاکہ مقامی لوگوں کو اس منصوبے کا اولین اور بھرپور فائدہ پہنچ سکے اور ان کی زندگیوں میں ترقی اور خوشحالی آ سکے۔

اس موقع پر وفد کی جانب سے وزیراعلیٰ کو بعض اہم مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے ان کے حل کی درخواست کی گئی، وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ گوادر کو درپیش پانی، نکاسی آب اور دیگر بنیادی مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائیگا۔

دریں اثناء وزیراعلیٰ نے گوادر کے علاقے کارواٹ کا دورہ بھی کیا اور وہاں زیرتعمیر ڈی سیلینیشن پلانٹ کا معائنہ کیا، متعلقہ حکام کیجانب سے وزیراعلیٰ کو منصوبے کی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ منصوبے کو جلد از جلد مکمل کر کے صاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، صوبائی وزیرسردار محمد اسلم بزنجو اور سینیٹر آغا شاہ زیب درانی بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔