|

وقتِ اشاعت :   November 2 – 2017

اسلام آباد : )اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بلوچستان سے تین خواتین کو لاپتہ کرنے کے معاملہ پر علامتی واک آؤٹ کیا جبکہ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے ہدایت کی ہے کہ بلوچستان سے لوگوں کو لاپتہ کرنے سے متعلق معاملے پر سینیٹ کو نامناسب جواب دینے والے جوائنٹ سیکریٹری کو نوٹس دیا جائے۔

بدھ کو سینٹ اجلاس میں اس معاملہ پر توجہ مبذول نوٹس پر اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بات کی جس کے بعد وزیر مملکت برائے داخلہ نے جواب دیا جس کے بعد سینیٹر کرنل (ر) سید طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ ان خواتین کو فوری رہا کیا جائے ہم اس معاملے پر ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اپوزیشن جماعتوں کے ارکان ایوان بالا سے واک آؤٹ کر گئے۔ 

چیئرمین سینیٹ نے ہدایت کی کہ وفاقی وزیر مشاہد اﷲ خان اپوزیشن ارکان کو منا کر ایوان میں واپس لائیں۔ مشاہد اﷲ خان کے منانے پر اپوزیشن ارکان فوری طور پر ایوان میں واپس آ گئے۔اجلاس کے دور ان چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے ہدایت کی ہے کہ بلوچستان سے لوگوں کو لاپتہ کرنے سے متعلق معاملے پر سینیٹ کو نامناسب جواب دینے والے جوائنٹ سیکریٹری کو نوٹس دیا جائے۔ 

اجلاس میں بلوچستان سے لوگوں کو لاپتہ کرنے سے متعلق توجہ مبذول نوٹس ایجنڈے پر تھا۔ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ بیورو کریسی کو لگام دی جائے اور ان پر کاٹھی ڈالی جائے۔ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ کہا جائے کہ معاملہ بلوچستان حکومت سے متعلق ہے، اس لئے اس کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ جس جوائنٹ سیکریٹری نے سینیٹ کو یہ جواب دیا اس کے خلاف کارروائی کریں۔ یہ فیصلہ میں نے کرنا ہے کہ کون سا معاملہ بلوچستان حکومت سے متعلق ہے یا وفاقی حکومت کا ہے۔ 

انہوں نے وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اس معاملے پر ایوان میں اس توجہ مبذول نوٹس کا جواب دینے کیلئے موجود ہیں ٗاپوزیشن ارکان کے توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ آواران کے ڈی پی او، ڈی آئی جی کوئٹہ سمیت متعلقہ حکام سے اس معاملہ پر بات کی ہے، جن لوگوں کو اٹھایا گیا ہے وہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر رہے تھے جس پر انہیں تحویل میں لیا گیا ہے ٗ۔

قانون و آئین جو تحفظ شہریوں کو دیتا ہے انہیں مدنظر رکھا جائیگا ٗ ہماری حکومت کی لوگوں کو لاپتہ کرنے کے حوالے سے زیرو ٹالرینس کی پالیسی ہے ٗلاپتہ افراد کے معاملہ پر کمیشن بھی کام کر رہا ہے۔ اب گمشدگیوں کے حوالے سے شکایات میں کمی آئی ہے ٗایوان کو اس معاملہ پر مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔ 

سینٹ اجلاس میں توجہ مبذول نوٹس پر سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ بلوچستان کے ضلع آواران سے ڈاکٹر اﷲ نذر، اسلم بلوچ کے اہل خانہ اور بچوں کو اٹھایا گیا ہے۔ خواتین کو اٹھانا غیرت کے خلاف ہے ٗمعصوم بچوں کو اٹھا لینا کہاں کا انصاف ہے؟ ہم فاصلوں کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

عورتوں کی عزت ہونی چاہئے، خواتین بھی محفوظ نہیں ہوں گی تو فاصلے اور بڑھیں گے ٗجو لوگ اس معاملہ میں ملوث ہیں ان کو سزا دی جائے اور جن لوگوں کو اٹھایا گیا ہے ان کو بازیاب کیا جائے۔ 

سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ پاکستان میں مزید لوگوں کو لاپتہ کیا جا رہا ہے ٗ صحافیوں پر تشدد ہو رہا ہے۔ سینیٹ کے فلور سے اب انسانی حقوق کی آواز اٹھ رہی ہے، جنیوا میں بھی یہ آواز اٹھے گی۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ مسلسل مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں۔

لوگوں کو لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ ملک میں جنگل کا قانون ہے، اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیں۔ سینیٹر اعظم موسیٰ خیل نے کہا کہ لوگ پاکستان کے نہیں، ناانصافی کے خلاف ہیں۔ ناانصافی ہوگی تو بغاوت ہوگی، ملک نفرت سے نہیں چلے گا۔

اجلاس کے دور ان چیئرمین سینیٹ سینیٹر میاں رضا ربانی نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی طرف سے بلوچستان سے تین خواتین کو بچوں سمیت لاپتہ کرنے کے معاملہ پر ایوان بالا میں جواب کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ کی مزید تفصیل سے (آج) جمعرات کو ایوان آگاہ کیا جائے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ متعلقہ وزیر وضاحت کریں کہ آرٹیکل فور اور دیگر آئین کے آرٹیکلز کو کیسے بائی پاس کر کے لوگوں کو کیسے اٹھایا گیا، یہ نہ کہا جائے کہ لوگوں کو نہیں اٹھایا گیا۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ تسلیم کرلیا گیا ہے کہ تین خواتین اس وقت بلوچستان حکومت کی حراست میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر مملکت کی طرف سے اس معاملے پر ایوان میں جواب دینا خوش آئند ہے۔ چیئرمین نے کہا کہ (آج) جمعرات تک اس معاملہ پر مزید معلومات لے کر ایوان کو اعتماد میں لیں