اسلام آباد : گوادر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے میں 10 ارب روپے ضائع کرنے کا معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔
جمعرات کو ایوان بالا میں وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی چوہدری احسن اقبال نے بتایا کہ گزشتہ حکومت کے دور میں گوادر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کے لئے 10 ارب روپے دیئے گئے۔ متعلقہ محکمے اس پیسے کے استعمال کے حوالے سے انکوائری کر رہے ہیں۔
یہ منصوبہ ٹھیک نہیں چلا اور پیسے ضائع کردیئے گئے۔ توقع ہے متعلقہ ادارے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کریں گے۔ وزارت منصوبہ بندی و ترقی تحقیقاتی ادارہ نہیں ہے۔ جن لوگوں نے ملک کے وسائل کا ضیاع کیا ہے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ چیئرمین بھی اس حوالے سے رولنگ دیں۔ ڈپٹی چیئرمین نے یہ معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔
وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے بتایا کہ یہ وفاق کا ایوان ہے یہاں بات کرتے ہوئے صوبائیت کا عنصر نہیں ہونا چاہیے۔ بلوچستان کے ساتھ وفاق کی طرف سے گزشتہ چار سال میں جو سرمایہ کاری کی گئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ آج بلوچستان میں چپے چپے پر پاکستان کا پرچم لہراتا ہے۔
ہمارے منصوبے جو 1998ء میں شروع کئے گئے تھے ان کو مکمل کیا جاتا تو آج صوبے کی حالت بدل جاتی۔ ہم نے چار سالوں میں ان منصوبوں کو مکمل کیا ہے۔ کوئٹہ گوادر ساڑھے چھ سو کلو میٹر کی شاہراہ ہم نے مکمل کی جس سے علاقے میں ترقی کی نئی لہر آئی ہے۔ حب کول کے منصوبہ پر کام شروع ہو چکا ہے۔
یہ 1320 میگاواٹ کا منصوبہ ہے۔ بلوچستان بھر میں شاہراہیں بن رہی ہیں۔ گوادر 2013ء کے مقابلے میں آج یکسر بدل چکا ہے۔ آج ہر کوئی وہاں تسلیم کرتا ہے کہ صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے۔ 70 سالوں کی محرومی کو فوری دور نہیں کیا جاسکتا۔ گوادر میں پانی کے مسئلے کو حل کیا جارہا ہے۔
سینیٹر عثمان کاکڑ کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر چیز کو تعصب کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ بجلی کے منصوبے پشتون‘ بلوچ‘ پنجابی‘ سرائیکی‘ سندھی علاقہ ہونے کی بنیاد پر نہیں لگائے جاتے۔ داسو ڈیم سے جو بجلی پیدا ہوگی وہ پورے ملک کے لئے ہوگی۔ نجی شعبہ بزنس فزیبلٹی کے اوپر کسی منصوبے میں کام کرتا ہے‘ کسی علاقے کے ستھ کوئی امتیاز نہیں برتا جارہا۔
وعدے کے مطابق سی پیک کی سڑکوں پر کام مکمل ہوگا۔ سینیٹر طلحہ محمود کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ساہیوال کول پلانٹ محفوظ پلانٹ ہے۔ جامشورو میں بھی پلانٹ میں یہ کریٹیکل ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ یہ ماحول دوست ٹیکنالوجی ہے۔ نیپرا پبلک ہیئرنگ کے بعد ٹیرف مقرر کرتا ہے۔