|

وقتِ اشاعت :   November 4 – 2017

کوئٹہ: وزیر داخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہاہے کہ 30اکتوبر کو سیکورٹی فورسز نے غیر قانونی طورپر چمن بارڈر کراس کرنے والی ڈاکٹر اللہ نظر کی بیوی سمیت 4خواتین اور 3 بچوں کو حراست میں لیا تھا جنہیں وزیراعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے باعزت طورپر انکے اہلخانہ کے حوالے کردیا ہے ۔

ہم بلوچی رسم ورواج کے پاسدار ہیں ہماری جنگ خواتین نہیں مردوں کے ساتھ ہیں ہم میں اور براہمداغ بگٹی ،حیربیارمری جیسے لوگوں میں یہی فرق ہے کہ ہم خواتین کے سروں پر چادر ڈالتے ہیں نہ کہ انہیں لینڈ مائنز کا نشانہ بناتے ہیں افغانستا ن کی سرزمین اور ریاست دونوں ہمارے خلاف استعمال ہورہی ہیں ،یہ بات انہوں نے جمعہ کو وزیراعلی سیکرٹریٹ میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔

میر سرفراز بگٹی نے کہاکہ 30اکتوبر کو چمن بارڈر پر ایف سی نے چار خواتین اور تین بچوں کو حراست میں لیا جن کی شناخت بی ایل ایف کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نظر کی بیوی ،بی ایل کے ہلاک شدہ کمانڈر اسلم عرف اچھو کی بہن اور فراری کمانڈر دلگت کے بہن کے نام سے ہوئی یہ تمام خواتین افغانستان سے بیرون ملک روانہ ہونا چاہتی تھیں دوران تفتیش ڈاکٹر اللہ نظر کی بیوی نے اعتراف کیا ہے کہ وہ بی ایل ایف او ربی ایل اے کیلئے پیسے کی تقسیم کرتی تھی ۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی رسم ورواج کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلی بلوچستان نے تمام خواتین اور بچوں کو خصوصی طورپر وزیراعلی ہاؤس بلایا اور خواتین کے سرپر بلوچی رواج کے مطابق چادر ڈالی اور انہیں باعزت طریقے سے انکے اہلخانہ کے حوالے کیا جہاں سے ڈاکٹر اللہ نظر کی بیوی اپنے بھائی مہراللہ کے ہمراہ کراچی روانہ ہوگئی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ اسلم عرف اچھو وہی شخص ہے جس نے وزیراعلی بلوچستان کے صاحبزادے ،بھائی او ربھتیجے کو زہری میں شہید کیا تھا آج ہم نے ثابت کیا کہ ہآج ہم نے ثابت کردیا کہ بلوچستان کے اصل وارث او ربلوچی رسم ورواج کے ہم پاسدار ہیں۔

شرپسند بلوچستان کی خواتین پر لینڈ مائنز سے حملے کرتے ہیں اور ہماری ماؤں بہنوں کو شہید کرتے ہیں لیکن ہم انکی بہنوں کے سروں پر چادر ڈال کر انکی حفاظت کررہے ہیں کیونکہ ہماری جنگ مردوں سے ہیں خواتین سے نہیں ۔

انہوں نے کہاکہ افغانستان کی سرزمین اور ریاست دونوں ہمارے خلاف استعمال ہورہی ہے ہم نے اس سال فروری سے اب تک 11ہزار لوگوں کو غیر قانونی طورپر بارڈر کراس کرنے پر گرفتار کیا ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں خود افغانستا ن کے ساتھ پرامن حالات اور تعلقات کا خواہا ہوں لیکن بحیثیت حکومت عوام کو یہ بتانا ہمارافرض ہے کہ ہمارے خلاف کو ن سرگرم میں ہے۔

بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کے بعد حکمت عملی پر غور کیا گیا ہے اور ہم گائے بگائے اپنی حکمت عملی بھی تبدیل کرتے ہیں میں دہشتگردوں پر یہ واضح کرنا چاہتاہوں کہ ہم ہر قیمت پر اپنے وسائل میں رہتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرینگے ۔