|

وقتِ اشاعت :   November 4 – 2017

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کو سنگین بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے باہمی اتحاد ضروری ہے۔

نجی ٹی وی چینل ’جیو نیوز‘ کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ’اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ جب بھی سینیٹ کے انتخابات قریب آتے ہیں تو اس طرح کی فضا بنادی جاتی ہے کہ پتہ نہیں کیا ہوجائے گا، پی ٹی آئی کی بھی کوشش ہے کہ مارچ کے اس الیکشن کو ملتوی کرایا جائے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس سے انہیں عام انتخابات میں مشکلات درپیش ہوسکتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ ملک میں افرا تفری پیدا نہ کریں اور انتخابات کی تیاری کریں، اس وقت پاکستان کو سنگین بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ملک کے مفاد کے لیے آپس میں اتحاد پیدا کریں، ایک دوسرے کی پشت پر کھڑے ہوں اور ملکی مفاد کو ترجیح دیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اب سب کو معلوم ہے کہ تحریک انصاف کے 2014 کے دھرنے کو اسٹیبلشمنٹ کے ایک حصے کی حمایت حاصل تھی، لیکن یہ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کا بڑا پن تھا کہ انہوں نے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی حالانکہ حکومت کے خلاف سازش تیار کرنے والوں کے خلاف موثر کارروائی کی جاسکتی تھی، لیکن ہم ملک میں اندرونی سلامتی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔‘

عمران خان کو گرفتار نہ کیے جانے کے حوالے سے وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ہم عمران خان کو گرفتار کرکے انہیں مظلوم بننے کا موقع نہیں دینا چاہتے، تاہم اگر عدالت چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کرنے کا براہ راست حکم دے تو تعمیل کی جائے گی۔‘

صحافی احمد نورانی پر حملے سے متعلق احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’احمد نورانی سمیت تمام صحافیوں پر حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور جیسے ہی یہ تحقیقات مکمل ہوں گی صحافیوں کے حوالے سے اعلیٰ سطح پر پالیسی مرتب کی جائے گی۔‘