|

وقتِ اشاعت :   November 7 – 2017

ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے بیان میں صوبائی حکومت سے زائرین کا مسئلہ فوری طور پر حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے صوبوں سے آنیوالے زائرین کی وجہ سے کوئٹہ کے شہری علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاؤن کے رہائشی شدید مشکلات و پریشانی کا شکار ہیں۔

حکومت کی طرف سے منصوبہ بندی کے بغیر ہزاروں کی تعداد میں دوسرے صوبوں سے سینکڑوں بسوں کو شہر کے رہائشی علاقوں میں آنے کی اجازت اور مسافروں کو انہی علاقوں میں رہائش کی فراہمی کے باعث طلباء،محنت کش اور دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے عوام کی زندگی اجیرن بن کر رہ گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پارٹی گزشتہ کئی سالوں سے زائرین کیلئے سرکاری طور پر رہائش گاہوں کے بند و بست اور انکے بسوں کیلئے اسٹاپ بنانے کے مطالبات کرتی چلی آرہی ہیں مگر صوبائی حکومت نے اس اہم مسئلہ کو کبھی بھی سنجیدہ نہیں لیا۔

اب ایک روایت بن گئی ہے کہ زائرین آکر علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاؤن میں اہم راستوں پر دھرنا دے کر بیٹھ جاتے ہیں جسکی وجہ سے ان علاقوں کے پہلے سے محصور رہائشیوں کی آمد و رفت کے راستے مکمل طور پر ہوجاتے ہیں۔جبکہ طلباء و طالبات،سرکاری ملازمین اور شہر میں کاروبار و تجارت کرنے والوں کے لئے آنا جانا سخت دشوار ہوجاتاہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اگر صوبائی حکومت زائرین کو بحفاظر سفر کی سہولت فراہم نہیں کرسکتی تو ضروری تھا کہ انہیں کوئٹہ شہر بالخصوص علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاؤن میں بھی داخلے کی اجازت نہ دیتے اب جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں زائرین کو یہاں تک آنے دیا گیاہے تو انہیں مقامات مقدسہ تک جانے کی سہولت بھی دی جائے تاکہ زائرین کے ساتھ موجود ضعیف العمر افراد،خواتین،بچوں اور بیمار افراد مزید تکلیف سے دوچار نہ ہوں۔

بیان میں صوبائی حکومت،محکمہ داخلہ سے زائرین کو فوری طور پر کوئٹہ سے روانگی کا بند و بست کرنے اور مستقبل میں انکے لئے دیرپا منصوبہ بندی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔