|

وقتِ اشاعت :   November 8 – 2017

کوئٹہ: نیوٹریشن پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر ناصر علی بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں غذائی قلت، ماں وبچے کی صحت و خوراک کی فراہمی کے لئے رہنمائی معاونت کے لئے نیوٹریشن پروگرام ہمہ وقت اپنی خدمات خوش اسلوبی سے انجام دیتا رہے گا جبکہ نیوٹریشن سروے کے بہتر انداز میں معاونت کے لئے بھی بلوچستان نیوٹریشن پروگرام ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔ 

یہ بات انہوں نے محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی جانب سے پروفیشنل ٹیکنیکل کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ چیف آف سیکشن محکمہ منصوبہ بندی وترقیات صدیق کاکڑ، ڈپٹی پروگرام منیجر نیوٹریشن ڈاکٹر صبیحہ بلوچ، ڈاکٹر صادق بلوچ، نیشنل نیوٹریشن پروگرام اسلام آباد کے شیر بابر، اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈاکٹر آفتاب بھٹی، عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر اسفندیار شیرانی، یونیسف کی ڈاکٹر نورین، نیوٹریشن انٹرنیشنل کے علاؤالدین کاکڑ، گین کے نمائندے محمد قوی خان اچکزئی، آغا خان یونیورسٹی کے ٹیکنیکل نمائندے ودیگر متعلق حکام نے شرکت کی۔ 

اجلاس کو تمام متعلقہ حکام نے آنے والے2017-18ء کے نیوٹریشن پروگرام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ آئندہ آنے والے وقتوں میں نیوٹریشن سروے میں صوبے کی مجموعی نیوٹریشنل اہداف، صوبے میں مائیکرو نیوٹریشن اسٹیٹس، بچوں کو دودھ دینے کے طریقوں، خوراک کی فراہمی اور اس کے حصول، فوڈ سیکیورٹی، خوراک کی ذخیرہ اندوزی، عمومی بیماریاں اور اس کے علاج میں پیشرفت اور طریقہ کار، نیوٹریشن پروگرام کی مجموعی اہداف میں پائیدار ترویج، غربت، لاغر پن، علاقائی معاشی صورتحال، پانی اس کی بہتر کوالٹی، حفظان صحت، جینڈر اسسمنٹ وخواتین کی روزگار ودیگر پر ایک جامع تکنیکی طریقہ کار کے تحت بلوچستان اور پاکستان کے تمام اضلاع میں مکسڈطریقوں سے ڈیٹا کو سائنسی بنیادوں پر جمع کیا جائے گا جس سے ایک جامع اور دوررس نتائج سے بھرپور نیوٹریشن اہداف کے حصول کے لئے مکمل معلومات تک رسائی ممکن ہوسکے گی۔ 

اس موقع پر نیوٹریشن پروگرام بلوچستان کے پروگرام منیجر ڈاکٹر ناصر علی بگٹی نے بتایا کہ ملکی سطح پر نیوٹریشن سروے کے حوالے سے اس اجلاس کی اہمیت اور افادتی بہت زیادہ ہے کیونکہ اس طرح کے اجلاس سے تمام ملکی وبین الاقوامی اداروں کے متعلقہ اسٹاک ہولڈرز کی مشاورات سے پالیسی ساز اداروں کو ایک جامع، مناسب معلومات سے بھرپور نیوٹریشن پالیسی میسر آسکے گی جس کی بدولت مستقبل قریب کے پالیسی کو مرتب کرنے میں مدد مل سکے گی۔ 

انہوں نے بتایا کہ اس نیوٹریشن سروے میں تمام مکتبہ فکر کے لوگ اپنی استعداد کار کے مطابق بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے متعلقہ حکام کی ہر طرح معاونت کریں۔