کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ تربت میں ہونیوالے واقعات کی روک تھام کے لئے انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائی کی جائے تربت اور کوئٹہ کے واقعات مختلف ہے ۔
تربت اور ارد گرد نواح میں جو کارروائیاں ہوتی ہے وہ کالعدم تنظیمیں کر تے ہیں جبکہ کوئٹہ میں پولیس کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کوئی اور گروہ ہے گوادر میں پانی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو مستقبل میں کوئی بھی منصوبہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوگا یہ صرف گوادرکے لئے نہیں بلکہ سی پیک کے لئے سوالیہ نشان ہے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ تربت میں یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے بھی تین چار واقعات رونما ہوئے ہیں ۔
پنجاب اور سندھ کے غریب لوگ جو کہ بلوچستان تک نہیں جانتے انسانی سمگلروں کے ہاتھوں آکر یہاں بے یار ومددگار چوڑ دیئے جاتے ہیں جو اس طرح ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کا شکار ہو جا تے ہیں یہ وہ علاقہ ہے جہاں میں خود بھی سیکورٹی کے بغیر نہیں گزرتے اور مزاحمت کار بلوچوں کے بغیر کسی کو بھی نہیں چھوڑتے اسی لئے سندھ اور پنجاب سے آنیوالے لوگ جو کہ غیر قانونی طور پر ایران جاتے ہیں ۔
وہ ٹارگٹ کلنگ کانشانہ بن جاتے ہیں کیونکہ انسانی سمگلر اور ایجنٹ پیسے لے کران کو بے یار وددمدگار چھوڑتے ہیں کوئٹہ اور تربت کے واقعات میں فرق ہے تربت میں جو واقعہ ہوا وہ کالعدم تنظیم ملوث ہے جبکہ کوئٹہ میں پولیس کے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں وہ لوگ ملوث ہے جو خودکش دھماکے بھی کر تے ہیں ۔
اس گروہ کا اس گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہے گوادر میں پانی کا مسئلہ بہت بڑا مسئلہ نہیں یہ صرف گوادر کے لئے ہیں بلکہ سی پیک کے سوالیہ نشان ہے وہاں پانی نہیں ہے جب وزیراعظم نوازشریف نے ان سے اپیل کی کہ جب تک سی پیک کے منصوبے کے حوالے سے پلانٹ لگے گا اس کے متبادل کوئی اور پلانٹ لگایا جائے ۔
سابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پلانٹ لگائیں چائینز کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ہمیں منصوبہ دیا جائے تو ہم30 میگاواٹ بجلی اور پانی کے مسئلے کو حل کرینگے اس میں7 مہینے لگے گا 10 سال پہلے 5 ملین گیلن کا ایک پلانٹ لگایا گیا تھا وہ چل ہی نہیں گیا اور خراب پڑ گیا ۔