کوئٹہ: پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ اور سابقہ میئر کراچی مصطفی کمال نے کہاکہ بلوچستان کی طرز پر کراچی کے منحرف لوگوں کے لیے بھی پیکج دینا ہو گا، فاروق ستار پشاور اور کوئٹہ کے دوروں کے طعنے دیتے ہیں۔
انہوں نے یہ بات منگل کے روز بلوچستان ہائی کورٹ بار روم میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔مصطفی کمال نے کہا فاروق ستار طعنے دینا بند کریں، اْنکی منزل صرف سیٹ حاصل کرنا ہے، پی ایس پی سیاسی جماعت کے طور پر الیکشن میں بھر پور انداز میں ملک بھر میں حصہ لے گی اور کامیابی حاصل کرے گی۔
انہوں نے کہا پی ایس پی آج بھی وہی بات کر رہی ہے جو پہلے دن کہی تھی، ہمارے قول و فعل کوئی تضاد نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم کے بانی کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے، پاکستان کے جھنڈے کا دوست ہمارا دوست ہے۔
مصطفی کمال نے کہا پی ایس پی سیاسی مقاصد کے لیے اختلافات پیدا کر کے دشمن نہیں بناتی بلکہ ہم پورے ملک کو جوڑنے کی سیاست کر رہی ہے۔ سربراہ پی ایس پی نے مزید کہا ایم کیو ایم کے بانی کے سامنے سچ بولنے کی سزا موت تھی، ان حالات میں زندہ رہنے کا سوچا نہیں جا سکتا تھا۔
انہوں نے کہا فاروق ستار کو ایم کیو ایم کا سربراہ بنا کر سابق لیڈر کو نئی سانس دی گئی ہے اور فاروق ستار کا ابھی بھی ایم کیو ایم کے سربراہ سے رابطہ ہے وہ مہاجرین کے نام پر مفادات حاصل کررہے ہیں
مہاجرین کے مسائل حل کرنے میں انکو کوئی دلچسپی نہیں وہ صرف ایک سیٹ حاصل کرنے کے خوہشمند ہیں سیاست میں یا تو آدمی پورا سچ بولیں آدھا سچ بولنے سے بات نہیں بنتی فاروق ستار نے میرے ساتھ کراچی میں پریس کانفرنس میں جو کچھ کہاتھا وہ پورا سچ نہیں تھا بلکہ آدھا جھوٹ تھا ۔
سچ انہوں نے آدھا چھپالیاتھا میں نے مہاجر قوم سے کچھ نہیں چھپایا اور انکو سب کچھ بتادیا فاروق ستار عورتوں کی طرح طعنہ دینا بند کریں مہاجر عوام کو ابھی بھی حقائق سے آگاہ کریں کہ حقیقت کیا ہے ورنہ مزید حقیقت میں بتانے پرمجبور ہوجاؤنگا آنے والے انتخابات کیلئے پارٹی کے کارکنوں کو ہدایت جاری کردی گئی کہ وہ تیاری کریں اور انتخابات میں ملک بھر میں حصہ لینگے اور فیصلہ عوام کریگا مہاجرین کو اب اندھیرے میں نہیں رکھا جاسکا حقائق انکو بتانے ہونگے اور انکو کافی حدتک حقائق معلوم ہوچکے ہیں
۔
انہوں نے کہاکہ میں نے پارٹی جب بنائی تھی تو اس میں صرف دوکارکن میرے ساتھ تھے اور اب پارٹی میں ہزاروں کارکن شامل ہوچکے ہیں جس طرح کراچی سے ہزاروں کی تعداد میں مہاجر غائب ہوئے جو نوجوان اور پڑھے لکھے ہیں انکو بھی عام معافی دی جائے جس طرح بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے عام معافی کا اعلان کیا ہے ۔