کوئٹہ: جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ احتساب کے ڈر سے لوگ پارٹیاں تبدیل کررہے ہیں لیکن ہم کرپٹ عناصر کا پیچھا آخر تک نہیں چھوڑیں گے ۔
ملک کی سیاست پر کرپٹ، ڈرگ اور شوگر مافیا کا قبضہ ہے ، ہم نوجوانوں کیلئے تعلیم، روزگار اور اقتدار کی راہ ہموار کرینگے، آئندہ انتخابات میں50فیصد ٹکٹس نوجوانوں کو دینگے۔ ہم نوجوانوں کو منظم کرکے دولت کے ڈھیر لگانے والوں کا احتساب کرینگے ۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو جے آئی یوتھ کوئٹہ کے زونل اور ضلعی عہدیداروں کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی‘جنرل سیکرٹری ہدایت الرحمن بلوچ‘جے آئی یوتھ بلوچستان کے صدر جمیل مشوانی ‘جماعت اسلامی کے عبدالکبیر شاکر‘زاہد اختر بلوچ ‘عبدالحمید منصوری ‘عارف دمڑ‘عبدالولی شاکراور عبدالقیوم کاکڑ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ کسی بھی ملک کا اصل سرمایہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں جن کی صلاحیتوں سے ہم فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ہم نوجوانوں کو قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں بھیجنا چاہتے ہیں ہم نوجوانوں کی تعلیم کے ساتھ ان کیلئے اقتدار کی راہ بھی ہموار کرنا چاہتے ہیں اس وقت نوجوان پریشان ‘مایوس اور بے روزگار ہیں اور اپنے آپ کو اپنے خاندانوں پر بوجھ سمجھتے ہیں ہم انہیں اس مایوسی اور بے روزگاری سے نجات دلانے کیلئے کوشاں ہے ۔
ہماری خواہش ہے کہ ملک کا نظریہ اور جغرافیہ دونوں محفوظ ہو اور ایک ایسی ریاست اور معاشرہ چاہتے ہیں جہاں20کروڑ عوام ترقی اور خوشحالی کی زندگی بسر کرے ہماری خواہش ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ قائم کرے جہاں ظلم اور استحصال نہ ہو ۔
انہوں نے کہاکہ 70سال میں ملک کو لوٹا گیا بلوچستان کے وسائل کو لوٹ کر کرپشن کا بازار گرم کیاگیا بے روزگاری عام ہے نوجوانوں کو تعلیم سے محروم کرکے جہالت کے اندھیرے غاروں میں دھکیل دیاگیا ہے ہم ان کیلئے امید کے چراغ جلا رہے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ سرمایہ وہ نہیں جو بینکوں میں ہوتا ہے بلکہ اصل سرمایہ نوجوان ہی ہوتے ہیں جو کسی بھی ملک کو بچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں نوجوانوں کو مایوسیوں سے نجات دلانے اور ان کی صلاحیتوں سے استفادہ دینے کیلئے جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ 2018کے انتخابات میں 50فیصد ٹکٹ نوجوانوں کو دینگے ۔
نوجوانوں کو بلدیاتی انتخابات میں بھی بھرپور سپورٹ کرینگے ہم نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتاب اور قلم دیکر ظلم کا مقابلہ کرنے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ جے آئی یوتھ کے انتخابات میں خیبر پختونخوا میں 22جبکہ پنجاب میں 16ہزار نوجوان منتخب ہوئے اس جذبے کے تحت بلوچستان میں بھی نوجوانوں نے حصہ لیا۔
انہوں نے کہاکہ ہم نوجوانوں کو بیدار کررہے ہیں اور یہ تہیہ کررکھا ہے کہ اقتدار پر قابض صلاحیتوں سے محروم عناصر کی جگہ باصلاحیت نوجوانوں کو لائینگے انہوں نے کہاکہ حکمرانی کی غلط معاشی پالیسیوں ظلم ‘ناانصافی اور کرپشن کے باعث نوجوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ بیرون ملک جانے کی کوششیں کررہے ہیں جس کا ثبوت تربت میں غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے20نوجوانوں کی شہادت ہیں ۔
ان کے قتل کے ذمہ دار وفاقی اور صوبائی حکمران بھی ہے ان کی غلط پالیسیوں نے نوجوانوں کو یہاں تک مجبور کیا کہ وہ اپنی جان پر کھیل کر بیرون ملک جائے ہم نوجوانوں کو منظم کرکے دولت کے ڈھیر لگانے والوں کا احتساب کرینگے ۔
ایک جانب تو کرپٹ عناصر کے دولت کے ڈھیروں میں اضافہ ہورہا ہے ان کے کتے مکھن کھاتے ہیں اور غریب کا بچہ کچرے کے ڈھیر میں رزق تلاش کریں ایسا نظام ہمیں قبول نہیں ملک کو نوابوں‘ سرداروں ‘وڈیروں ‘چوہدریوں‘خانوں اورانگریز کے یاروں نے لوٹا عالمی اسٹبلشمنٹ کے ایجنڈ ملک کو لوٹ رہے ہیں ۔
ہمیں ایسے راستے پر چل پڑے ہیں جس سب کا احتساب ہوگا ہم اسٹیٹس کو توڑنا چاہتے ہیں اگرچہ یہ مشکل کام ہے لیکن نوجوانوں نے ساتھ دیا تو ہم کرپشن ‘کمیشن کے کلچر کا خاتمہ کرکے رہیں گے۔