|

وقتِ اشاعت :   November 22 – 2017

کوئٹہ: سوئی میں پی پی ایل ریٹائرڈ اورفوت شدہ ملازمین کے ورثا20نومبرسے پی پی ایل گیٹ نمبر1پرشدیدسردی میں کیمپ لگاکربھوک ہڑتال پربیٹھے ہوئے ہیں ۔

پی پی ایل حکام کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی یہاں تک کہ ان سے گفت وشنیدکیلئے سوئی فیلڈکے کوئی افسرنہیں آیاہے ان سے آج مختلف سیاسی وسماجی شخصیات اورجی ٹی اے بی کے سابق عہدیداروں فیض بگٹی حاجی احمدیاربگٹی شاہ محمدبگٹی اورقبائلی عمائدین وڈیرہ منظوربگٹی وڈیرہ مومن بگٹی اورایپکاضلع ڈیرہ بگٹی کے نائب صدرعلی نوازعرف بلوچان نے کیمئپ کادورہ کرکیان کے ساتھ اظھاریکجھتی کیا۔

احتجاجی کیمئپ میں بیٹھے ہوئے ہڑتالی جوانوں سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پی پی ایل اپنے کیئے ہوئے وعدوں سے پھرگئی ہے اورہمیشہ کی طرح اس باربھی پی پی ایل کااہلیان سوئی سے سوتیلی ماں جیساسلوک روارکھاجارہاہے ۔

اب دنیااکسویں صدی کے گیت گارہی ہے لیکن اہلیان سوئی دووقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں جبکہ پاکستان کاآئین تویہ کہتاہے کہ معدنیات کاپہلاحقداروہاں کے مقامی ہیں اورتواورسوئی ٹاؤن بھی زچہ بچہ پینے کے صاف پانی جیسی سہولیات سے محروم ہے اورگیس کی حالت یہ ہے کہ رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے ۔

شائدپی پی ایل حکام آئین کے اس شق سے ماوراہیں انہوں نے کہاکہ ہم اپنے نوجوانوں کے شانہ بشانہ ہرقسم کی تعاون کوتیارہیں حکام بالاکوچاہئے کہ انکے مسائل کوفوری حل کیاجائے۔