|

وقتِ اشاعت :   November 30 – 2017

کوئٹہ: نواب خیربخش مری کے صاحبزادے سابق وزیرداخلہ بلوچستان نوابزادہ گزین مری کو دو ماہ بعد ضمانت پر رہائی مل گئی۔ گزین مری نے آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کا فیصلہ مشاورت کے بعد کرینگے۔ بلوچستان حکومت صوبے کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق نوابزادہ گزین مری کو اٹھارہ سالہ جلا وطنی ختم کرکے پاکستان آمد پر بائیس ستمبر کو کوئٹہ ایئر پورٹ سے گرفتار کیاگیا تھا۔ ان پر سن دو ہزار میں بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس نوازکے قتل جبکہ سن دو ہزار چار میں کوہلو میں لیویز کیمپ پر حملے کے مقدمات درج تھے۔ 

دس اکتوبر کو دونوں مقدمات میں ضمانت ہونے پر انہیں کوئٹہ جیل سے رہا کیاگیا تو کوئٹہ کے پولیس تھانہ انڈسٹریل نے انہیں 2015ء میں دہشتگردی کے ایک واقعہ میں کالعدم تنظیم کی معاونت کے الزام میں دوبارہ گرفتار کرلیاتھا۔ اس مقدمے میں ڈیڑھ ماہ سے ان کا ٹرائل انسداد دہشتگردی کوئٹہ کی خصوصی عدالت میں جاری تھا۔ 

گزشتہ سماعت پر گزین مری کی درخواست ضمانت پر ان کے وکیل ارباب طاہر ایڈووکیٹ اور پراسکیوٹرزاہد علی کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ بدھ کو انسداد دہشتگردی عدالت کے جج داؤد خان ناصر نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے گزین مری کو تین لاکھ روپے کے مچلکوں کے عیوض ضمانت منظور کرلی۔

عدالتی احکامات کے بعد گزین مری کو ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ سے رہا کردیا۔ گزین مری رہائی کے بعد بروری روڈ پر واقع اپنی رہائشگاہ پہنچے تو قبائلی معتبرین، رشتہ داروں اور سیاسی و سماجی رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا۔ 

اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے گزین مری کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اور اس سے صوبائی حکومت کی کمزوری کا اظہار ہوا ہے۔ اگر انہوں نے کچھ کیا ہوتا تو وہ اتنے کمزور نہیں ہوتے۔ 

سیاسی مستبقل کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کسی سیاسی جماعت میں جانے کا فیصلہ ابھی نہیں کیا۔ اپنے بزرگوں، دوستوں اور رشتہ داروں سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کرینگے کیونکہ ہم سب ہی اسٹیک ہولڈرز ہیں اس لئے جو بھی فیصلہ کرینگے وہ ذاتی کی بجائے اجتماعی مفاد کو دیکھ کر کرینگے۔ 

پاکستان میں بظاہر دو ہی بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ہیں۔ عمران خان کی تحریک انصاف تیسری جماعت ہے۔ کسی سیاسی جماعت میں جانے یا اتحاد کا فیصلہ صوبے کے مفادات کو پیش نظر رکھ کر کینگے۔ 

پیپلز پارٹی میں شمولیت کا سوال پوچھنے پر گزین مری نے دلچسپ جواب دیتے ہوئے کہا کہ بار بار ایک ہی سوال پوچھا جارہا ہے۔ کوئی کنورا یا بیوہ تو نہیں ہوں کہ ضرور کسی سیاسی جماعت سے نکاح کرنا ہوگا۔ 

سابق وزیرداخلہ بلوچستان کا کہنا تھا کہ حالات ابتر ہوئے ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو کافی اختیارات ملے ہیں لیکن بلوچستان حکومت کو اپنے اختیارات کا پتہ ہی نہیں۔ حکومت میں شامل لوگ اپنے مفادات کے حصول میں مصروف ہیں۔ مسائل کی وجہ صوبائی حکومت کی نا اہلی ہے۔ 

یہ لوگ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں ، صرف روایتی باتیں کررہے ہیں ، زمین پر کچھ نظر نہیں آرہا۔ ان میں مسائل حل کرنے کی اہلیت بھی موجود نہیں۔ ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بھی شورش موجود تھی اب کچھ زیادہ ہوگئی ہے۔

بھارت سمیت دیگرممالک کی جانب سے بلوچستان میں مداخلت کے سوال پر گزین مری نے اتفاق کیا کہ بلوچستان میں غیرملکی مداخلت موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب اندر سے غیراستحکام اور غیراتفاقی ہوگی تو باہر والے اس کا فائدہ اٹھائیں گے۔ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بتایا جائے کہ بلوچستان حکومت غیرملکی مداخلت کی روک تھام کیلئے کیا کررہی ہے۔ 

ان کی کیا کوششیں ہیں۔ جب تک آپ اپنے گھر کو محفوظ نہیں کرینگے چور تو چوری کی کوشش کرے گا۔پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق سوال پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے گزین مری کا کہنا تھا کہ انہوں نے جیل میں بھی اس موضوع کا مطالعہ کیا ہے۔ 

اس پر فوری کوئی رائے قائم کرنے سے قبل اس کی گہرائی سے مطالعہ کرینگے اور ماہرین کی رائیلینگے۔ نواب خیر بخش مری کے صاحبزادے نے آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوہلو یا پھر کسی دوسرے علاقے سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ بعد میں کرینگے۔ ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ناراض بلوچ بچے تو نہیں جو انہیں ناراض کہتے ہیں۔