کوئٹہ: کوئٹہ کی احتساب عدالت نے کرپشن کے دو مقدمات میں سابق ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ توانائی اور ڈائریکٹر جنرل محکمہ توانائی سمیت چودہ ملزمان پر فرد جرم عائد کردیا۔
احتساب عدالت کوئٹہ عبدالمجید ناصر کی عدالت میں نیب کی جانب سے دائر کردہ دو مختلف ریفرنسز کی سماعت ہوئی۔ژوب ، موسیٰ خیل ، لورالائی اور بلوچستان کے دیگر اضلاع کے لئے شروع کئے گئے شمسی توانائی کے منصوبے میں کروڑوں روپے کی خردبرد کیس کی سماعت کے دوران جج مجید ناصر نے سابق ایڈیشنل سیکرٹری توانائی منظور احمد اور ڈائر یکٹر جنرل محکمہ توانائی نصرت اللہ بلوچ سمیت 11 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی۔
استغاثہ کے مطابق ملزمان نیشمسی توانائی کا منصوبہ من پسند اور جعلی کمپنیوں کو دے کر 11 کروڑوں روپے جیبوں کی نظر کیے۔محکمہ انرجی کی جانب سے ژوب ، موسیٰ خیل ، لورالائی اور بلوچستان کے دیگر اضلاع کے دیہاتوں میں سولر پینلز کی تنصیب اور خریداری کے منصوبے میں کروڑوں روپے خردبرد کے انکشاف کے بعد نیب کی جانب سے انکوائری شروع کی گئی تھی۔
انکوائری کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ منصوبوں میں من پسند اور جعلی کمپنیوں کے ساتھ شمسی توانائی کے 11 منصوبوں کے معاہدے کئے گئے، مذکورہ کمپنیز لانگ لائف انرجی سسٹم بنام اسد علی اور سولر فیلڈ این ذیڈ کو بنام آصف علی فیض کے پاس نہ ضروری لائسنس تھے، نہ ضروری تجربہ اور نہ ہی وہ پاکستان انجینئرنگ کونسل سے رجسٹرڈ تھیں۔
ملزمان کے خلاف نا قابل تردید ثبوتوں کی روشنی میں نیب بلوچستان نے دو ماہ قبل ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کر دیا تھا۔
اسی طرح بیس کروڑ روپے سے زائد ناجائز اثاثہ جات بنانے پر کمشنر آفس کوئٹہ کے ذیلی ادارے ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ کوئٹہ میں گریڈ 16 کا ملازم طلعت اسحاق سمیت تین ملزمان پر فرد جرم عائد کردیا۔
ملزم پر الزام ہے کہ اس نے بحریہ ٹاؤن راولپنڈی DHA لاہو ر اور کوئٹہ میں 20 کروڑ مالیت کے بنگلوں پلاٹس،مہنگی سپورٹس و دیگر پرتعیش گاڑیوں سمیت کئی قیمتی اثاثہ جات بنائے ۔
ملزم سے دوران تفتیش کروڑوں روپے مالیت کا خالص سونا اور جولری اور لاکھوں روپے کی غیر ملکی کرنسی بھی برآمد ہوئی۔علاوہ ازیں احتساب عدالت میں میگا کرپشن کیس کی سماعت بھی ہوئی۔