|

وقتِ اشاعت :   November 30 – 2017

کوئٹہ : سوئی سدرن گیس کمپنی (ڈسٹری بیوشن )نارتھ کے سینئر جنرل منیجر سید احمد لاڑک نے کہا ہے کہ اس وقت سوئی سدرن فرنچائز کوئٹہ ریجن کو نارمل 170سے180ملین کیوبک سپلائی کررہے ہیں فرنچائز کوسالانہ250سے 300ملین کیوبک کی شارٹیج موجود ہے ۔

اس شارٹیج کو پورا کرنے کے لئے ہم صوبہ سندھ میں سی این جی کو 3دن جبکہ انڈسٹریز کو 1دن سپلائی بند کرتے ہیں سوئی سدرن گیس کمپنی کاسالانہ بنیادوں پر 50سے 60فیصد چوری کی مدمیں چلا جاتا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ آفس میں سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے حفاظتی وہ آگاہی مہم کے سلسلے گاڑیوں پر حفاظتی تدابیر والے بینرز لگانے کا افتتاح کرنے کے موقع پرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت سوئی سدرن پرنچائز کو دیکھا جائے تو اس میں سالانہ250سے 300ملین کیوبک کی شارٹیج ہے ہم شارٹیج کو پوراکرنے کے لئے جامعہ لوڈ مینجمنٹ سسٹم کے تحت صوبہ سندھ میں سی این جی کو 3دن جبکہ انڈسٹریزکو 1 دن سپلائی بند کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ بلوچستان میں ہم کوئی لوڈشیڈنگ نہیں کرتے اور نہ ہی کسی انڈسٹریل یا سی این جو کو بند کرتے ہیں اس لئے عوام کو کبھی کبھار گیس پریشر میں کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ چوری صرف بلوچستان میں نہیں بلکہ پورے پرنچائز کا مسئلہ ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان میں دور دراز علاقے ہے جس کی وجہ سے چوری ہوتی ہے پرنچائز کا سالانہ بنیادوں پر 50سے 60فیصد گیس چوری کی مدمیں چلا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم ہر سال سردیوں کے آغاز میں اس طرح کے مہم کا آغاز کرتے ہیں تاکہ شہریوں کے قیمتی جانوں کے ضیاع کو ختم کیا جاسکے ۔

اس مہم کا مقصد یہی ہے کہ شہریوں میں گیس کی ضیاع اور جانی نقصان سے بچنے کے لئے شعور و آگاہی پیدا کر سکیں انہوں نے کہا کہ عوام کو چاہئے کہ وہ گیس کو احتیاطی تدابیر کے تحت استعمال کریں تاکہ ان کی جان اور مال محفوظ ہو جب سے ہم نے یہ مہم شروع کی ہے تب سے حادثات میں کافی حد تک کمی آئی ہے جہاں پچھلے سالوں میں 50افراد لقمہ اجل بنے وہاں اس مہم کی وجہ سے رواں سال اس نمایاں کمی آئی ہے ۔

اس موقع پر بلوچستان کے ڈپٹی جنرل منیجر (ڈسٹری بیوشن) مدنی صدیقی نے کہا ہے کہ پورے پاکستان میں ایک ہی پلانٹ ہے جہاں میٹر بنتے ہیں اور اسی پلانٹ سے پنجاب کو بھی میٹر بجھوائے جاتے ہیں اور وہی میٹر ہمارے پاس کوئٹہ میں بجوائے جاتے ہیں اور یہ میکنیکل میٹرز ہیں ۔

ہمارے پاس ایسا کوئی فارمولا نہیں ہے جس کے تحت ہم میٹر کو تیز کریں ان میٹرز کا سالانہ بنیادوں پر عالمی کمپنیاں آڈٹ کرتی ہے بلوچستان میں کوئی ایسا میٹرز نہیں لگائے جاتے ہیں جو کئی اور سے رد کیا ہو ۔

اس موقع پر سوئی سدرن گیس کمپنی نارتھ کے جنرل منیجر سید احمد لاڑک نے کمپنی ملازمین سے گیس کی چوری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حلف بھی لیا ۔