کوئٹہ : صوبائی وزیرذراعت سردار اسلم بزنجو نے کہا ہے کہ جمہوری دور میں مزدوروں کے مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرکے انھیں مطمئن کیا جاسکتاہے ، صوبے کے 80 فیصد افراد کا ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے ۔
مخلوط صوبائی حکومت نے صوبے میں پہلی مرتبہ گرین بلوچستان منصوبے کا آغاز کیا اور اس دوران محکمہ میں انقلابی اصلاحات کئے گئے ہیں جن کے مستقبل میں مثبت نتائج مرتب ہونگے ۔ محکمہ میں تعینات افسران ادارے کی ترقی عوام اور زمینداروں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں تاکہ عوام کا محکمہ پر سے اعتماد بحال ہو ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزایگریکلچرل انجینئرنگ ایمپلائز یونین بلوچستان کے زیر اہتمام ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ایڈیشنل سیکریٹری عبدالرزاق بھٹی ، ڈائریکٹر جنرل عبدالمنان رئیسانی اور دیگر آفیسران بھی موجود تھے ۔
کنونشن میں یونین کے جنرل سیکریٹری یوسف کاکڑ نے ادارے کی ترقی، زمینداروں کی سروسز میں اضافے اور کارکنوں کو درپیش مسائل پر مبنی سپاسنامہ پیش کیاسپاسنامے میں صوبائی حکومت اور محکمہ ایگریکلچر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام ملازمین کے پروموشن اور اپ گریڈ ایشن کیسزکو نمٹایا جائے ۔
سروس رولز کو نئے تقاضوں کے مطابق بناکراہلکاروں کے پروموشن اوراپ گریڈ ایشن کیلئے راہ ہموار کرنے، ہر پانچ سال کے بعد ہر کٹیگری کے ملازمین کو ایک، ایک اسکیل اپ گریڈ کرنے، صوبے کے تمام ضلعوں میں دفاتربنانے ، جہاں اپنے دفتر نہیں وہاں کرائے پر دفتر لینے کا بندوبست کرنے، کارکنوں کے 2009 سے 2016 تک تبادلوں کے ٹی ۔اے،ڈی ۔اے اور دیگر بقایا جات کی ادائیگی کرنے، محکمے میں نئی بھرتی سے پہلے ترقی کے کیسز نمٹانے، نئی بھرتی پر فوت شدہ اور ملازمین کے بچوں کو ترجیحی بنیادوں پر بھرتی کرنے، بھرتیوں میں ایسا میرٹ بنانے جس پر کوئی بھی اعتراض نہ ہو۔
نئے کمپیوٹرائز بلڈوزر کیلئے اسٹاف کو ٹریننگ دینے، کالونیوں میں کوارٹرز اور فلیٹس تعمیر کرکے ملازمین کے رہائشی مسئلے کو حل کرنے، ملازمین کے بچوں کو تعلیمی وظائف دینے ، محکمے کی سطح پر کوئٹہ شہر میں ہائی سکول بناکر ملازمین کے بچوں کو تعلیم دلانے، ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے علاج معالجے کا بندوبست کرنے، بینولینٹ فنڈ کے ذریعے حج کے کوٹے میں اضافہ کرکے حقدار ملازمین کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں حج پر بھجوانے، سالانہ بنیادوں پر ملازمین کو آسان اقسام پر قرضہ دینے۔
تمام صوبے میں ایگریکلچر کے سرکاری زمینوں پر قبضہ ختم کرانے اور ایسے خالی زمینوں پر پلاٹ بناکر قرعہ اندازی کے ذریعے ملازمین میں آسان نرخ اورآسان اقساط پر مالکانہ حقوق کے طور پر دینے۔
بلوچستان انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ 2010 کے تحت سیکریٹری کی سطح پر انتظامیہ اور یونین کے درمیان ورک کونسل کا قیام عمل میں لانے اور اس ورک کونسل کے ہر ماہ میٹنگ کرکے ادارے کی ترقی، عوام اور زمینداروں کو بہتر سروسز کی فراہمی اور مزدوروں کے مسائل کے حل کیلئے فیصلے کرنے اور اس طرح کے دیگر مسائل کے حل پر زور دیا گیا۔
کنونشن سے رمضان اچکزئی، حاجی عزیز اللہ، محمد رفیق لہڑی، حاجی عبدالغفار، فاروق بازئی، جانان خان کاکڑ، عبدالباقی لہڑی،عبدالغفور بنگلزئی اور دیگر نے بھی خطاب کیا اس موقع پر صوبائی وزیر ذراعت نے یقین دلایا کے مزدوروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائے گے۔