کوئٹہ: بلوچستان میں لیویز، ایف سی اور حساس اداروں نے مختلف کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں اسلحہ گولہ و بارود برآمد کرکے دہشتگردی کے منصوبے ناکام بنادیئے۔کالعدم تنظیم کے11ارکان کو بھی گرفتارکرلیاگیا۔
تفصیلات کے مطابق کارروائیاں ضلع کچھی،ڈیرہ بگٹی، قلعہ سیف اللہ، دکی اور کوہلو کے علاقے میں کی گئیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان کے مطابق آپریشن رد الفساد کے تحت کی گئیں ان کارروائیوں میں ایف سی، خفیہ اداروں اور لیویز فورس نے حصہ لیا۔ سبی کے قریب ضلع کچھی کے علاقے سنی شوران سے کالعدم بلوچ ری پبلکن آرمی کے گیارہ دہشتگردوں کو گرفتار کیاگیا ۔
اس کے علاوہ ڈیرہ بگٹی کے علاقے الیاسی نالے اور دکی میں کارروائی کے دوران بڑے پیمانے پر ہتھیار اور ایمونیشن برآمد کئے گئے۔
قلعہ سیف اللہ میں کاروائی کے دوران4عدد دیسی ساختہ بم برآمد کئے گئے جنہیں ناکارہ بنادیاگیا۔ دریں اثناء کوہلو میں بھی دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیاگیا۔
ڈپٹی کمشنر کوہلو آغا نبیل نے لیویز لائن میں صحافیوں کو کارروائی سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کوہلو کی تحصیل کاہان کے علاقے پیشی میں سوراف نالے میں لیویز اور حساس ادارے نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کی جس میں لیویز کے کمانڈوز سمیت80اہلکاروں نے حصہ لیا۔
کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم کی جانب سے زیر زمین چھپایا گیا اسلحہ کا بڑا ذخیرہ برآمد کیاگیا۔
اسلحہ میں 181عدد آر پی جی سیون راکٹ گولے، 172راکٹ فیوز،ایک عدد ایم ایم آر 73گن اور اس کے80عدد گولے شامل ہیں۔
آغا نبیل نے بتایا کہ برآمد کیاگیا اسلحہ کالعدم تنظیم کی جانب سے دہشتگردی کی غرض سے چھپایا گیا تھا۔ اگر یہ اسلحہ استعمال میں لایا جاتا تو بڑے پیمانے پر تباہی ہوسکتی تھی۔
انہوں نے لیویز اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہا۔ادھر ضلع دکی کے علاقے لونی میں تلاؤ دامان کچھ کلی کے مقام پر ایف سی لورالائی سکاؤٹس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کی اور بڑے پیمانے پر اسلحہ برآمد کرلیا۔
برآمد کئے گئے اسلحہ میں ایک عدد دستی بم، ایک کلاشنکوف بمعہ8میگزین، 8عدد مختلف اقسام کی رائفلیں ، پانچ عدد مختلف اقسام کے پستول ،12عدد مختلف اقسام کے میگزین ، کلاشنکوف اور نائن ایم ایم سمیت مختلف ساخت کے ہتھیاروں کی 5ہزار سے زائد گولیاں، طیارہ شکن بندوق کی ایک گولی ،ایک خنجراور ایک عدد دوربین شامل ہیں۔
تاہم کارروائی کے دوران کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی۔دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء خان زہری نے ضلع کو ہلو کی تحصیل کاہان میں لیویز فورس اور قانو ن نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی جانب سے کامیاب انٹیلیجنس بسیڈ آپریشن کے دوران بڑی مقدار میں بارودی اسلحہ اور گولہ بارود کی برآمدگی پر اطمینان و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے آپریشن میں حصہ لینے والی سیکورٹی فورسز کی کار کردگی کو سراہا ہے اور انہیں مبارکباد پیش کی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بالخصوص لیویز فورس اور ضلعی انتظامیہ کی کار کردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ بہترین تربیت اور جدید اسلحہ کی فراہمی کے ذریعہ بلوچستان لیویز فورس کو سٹرائیکنگ فورس بنا دیا گیا ہے اور اب یہ فورس دہشت گردی کی جنگ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
انہو ں نے کہا کہ کالعدم تنظیم کی جانب سے دہشت گردی کی کاروائیوں کے لئے چھپائے گئے اسلحہ کی برآمدگی سے صوبے کو بڑی تباہی سے بچالیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ نئی حکمت عملی کے تحت اب سیکورٹی فورسز دفاع کی بجائے دہشت گردوں کا ہر جگہ پیچھا کر رہی ہے اور انکے محفوظ ٹھکانوں اور انہیں پنا ہ دینے والوں کے خلاف بھر پور کاروائیاں کی جارہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں کو بلوچستان میں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی اور انہیں حالت جنگ میں رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا ۔
آپریشن ردالفساد کے دوران ایف سی ،پولیس اورلیویز فورس کی مشترکہ کاروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں اور دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کا صفایا کیا جارہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ لیویز فورس اپنی شاندار کار کردگی بر قرار رکھتے ہوئے ہر ضلع میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی جاری رکھے گی۔