کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے امیر مولانا فیض محمد اور صوبائی جنرل سیکریٹری ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنا چاہیے ، کسی بھی غیر آئینی اقدامات کی مزاحمت کرینگے، عدلیہ سے قوم کو بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔
عدلیہ انصاف کے تقاضے پورے کریں تاکہ ملک میں عوام کی حکمرانی قائم ہو۔یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں جمعیت کے صوبائی دفتر میں مسلم لیگ(ن) کے رہنماء میر نظام الدین کرد اور میر فاروق شاہوانی کی ساتھیوں سمیت جمعیت علماء اسلام میں شمولیت کے موقع پر یس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہی۔
اس موقع پر ضلعی امیر مولانا ولی محمد ترابی، سابق صوبائی وزیر عبدالواحد صدیقی ، جمعیت علماء اسلام کے ترجمان سید جانان آغا، میر نجیب سنجرانی سمیت جمعیت کے دیگر رہنماء بھی موجود تھے ۔
جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے جمعیت میں شامل ہونیوالے کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ امید ہے کہ نئے آنے والے جمعیت کا پیغام گھر گھر پہنچائیں گے ۔جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ ملک کے اداروں پر اعتماد کیا ہے اور اداروں سے بھی توقع کرتی ہے کہ وہ آئین وقانون پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے ۔
انہوں نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام سیاسی و مذہبی اور جمہوری جماعت ہے جو کسی بھی غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کرے گی ۔اسمبلیوں کو اپنی مدت پوری کرنی چا ہئے ۔قومی حکومت کی حمایت نہیں کرینگے ۔
سیاسی عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری رہنا چاہیے ۔جمعیت علماء اسلام کی خواہش ہے کہ عام انتخابات وقت پر ہوں۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور عدلیہ حقیقی معنوں میں ملک کے بابا ہے ، عدل اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی ذمہ داری بھی عدلیہ پر عائد ہو تی ہے ۔
عدلیہ اس طرح کے فیصلے کریں کہ ملک میں عوام کی حکمرانی قائم ہو سکے ۔عدالت جانا ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام پر جمعیت علماء اسلام کا موقف روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔فاٹا اور پشاور کے عوام میں 70 سال کا فرق ہے ،فاٹا اور خیبر پشتونخوا کے انضام سے مسائل پیدا ہوں گے۔
ٓحکومت کیخلاف کسی بھی غیر آئینی اقدام کی مزاحمت کریں گے ،جمعیت بلوچستان
![]()
وقتِ اشاعت : December 17 – 2017