|

وقتِ اشاعت :   December 22 – 2017

کوئٹہ :  حلقہ پی بی 2 کوئٹہ کی سیاسی جماعتوں ، انجمن تاجران اور سول سوسائٹی پر مشتمل آل پارٹیز عوامی مسائل ایکشن کمیٹی نے کوئٹہ شہر میں بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی، گیس پریشر میں کمی، بجلی کی گھنٹوں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ قائم کرکے علامتی دھرنا دیا۔ 

کوئٹہ کے شہریوں کے ساتھ گیس کمپنی کے ظالمانہ اور ناقابل برداشت رویئے کی مذمت کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے حبیب اﷲ بڑیچ، جماعت اسلامی کے ہدایت الرحمان بلوچ، انجمن تاجران کے قیوم کاکڑ، جمعیت علماء اسلام کے عزیز اﷲ پکتوی سمیت پشتونخوامیپ، تحریک انصاف، جمعیت نظریاتی اور دیگر سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کے شہری صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی، صفائی کی ناقص صورتحال سمیت ہر سال گرمی میں بجلی اور سردی میں گیس پریشر میں کمی کے ہاتھوں مصائب برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ 

ہر سال سردی کی آمد کے ساتھ ہی گیس پریشر کم کردیا جاتا ہے جس سے نہ صرف شہری سخت سردی میں ٹھٹھر کر رہ جاتے ہیں بلکہ اس دوران ہلاکتیں بھی ہوتی ہیں۔ رواں ماہ دس سے زائد افراد گیس لیکج کے باعث جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں آئے روز احتجاج اور بیانات کے باوجود سوئی گیس حکام کا ٹس سے مس نہ ہونا انکی عوام دُشمنی کی عکاسی ہے۔ 

مقررین کا کہنا تھا کہ کوئٹہ شہر میں قائم درجنوں نجی سی این جی اسٹیشنز کو بلا تعطل گیس کی فراہمی کیلئے عوام کو دوہر عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے جو ناقابل برداشت ہے رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ عوامی سطح ر احتجاج میں ایم پی ایز سمیت کوئٹہ شہر کے منتخب صوبائی وزراء کی عدم شرکت انکی عوامی نمائندگی کے دعوؤں کی نفی کرتا ہے ۔

مقررین کا سوئی گیس حکام سے گیس پریشر فوری بحال کرنے کے مطالبہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر متعلقہ حکام نے اس طرف توجہ نہ دی تو احتجاج کا دائرہ کار کوئٹہ کے تمام حلقوں سمیت صوبے بھر میں پھیلادیا جائے گا۔