کوئٹہ : عدالت عالیہ بلوچستان نے سونے ،چاندی اور تانبے کے ذخائر کا سیندک پراجیکٹ کیلئے چینی کمپنی کی لیز میں توسیع کے خلاف آئینی درخواست کی سماعت کی۔
عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت اور چینی کمپنی کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی۔ سیندک پراجیکٹ چینی کمپنی کو حوالے کرنے کے معاہدے کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سابق سینیٹر ثناء بلوچ نے درخواست دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ بلوچستان میں معدنیات کے شعبے میں توسیع، رائلٹی اور دیگر معاملات شفاف اور اخبارات مشتہر کئے بغیر نہیں ہو سکتے جبکہ وفاقی حکومت نے بلوچستان حکومت کی مرضی سے چینی کمپنی کے لیز میں قانونی جواز پورے کئے بغیر توسیع کی ۔
یہ معاہدہ غیر قانونی ہے لہٰذا اس معاہدے کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے ۔درخواست کی سماعت بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس محمد نورمسکانزئی اور جناب جسٹس ظہیر الدین کاکڑ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ۔
سماعت کے موقع پر درخواست گزار ثنا بلوچ اور ان کے وکیل نوید بلوچ ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے کیس کی پیروی ڈپٹی اٹارنی جنرل عبداللہ جان کاکڑ اور صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل شہک بلوچ نے کی ۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت معاہدے میں شریک چائنیز کمپنی ایم سی سی سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت8جنوری تک ملتوی کر دی ۔
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق سینیٹر ثناء بلوچ کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اور چائنیز کمپنی ایم سی سی کے مابین سیندک معاہدہ کی مدت ختم ہونے کے بعدآئینی او قانونی پہلوؤں کو دیکھے بغیر اور اسمبلی کی منظوری کے بغیر خفیہ طریقے سے اسی کمپنی کو دوبارہ این او سی جاری کی گئی ۔
بلوچستان ہائیکورٹ کے ایک حکم کے مطابق بلوچستان میں گیس ، تیل اور دیگر معدنی وسائل کے معاہدوں میں توسیع نہیں ہوگی ۔بین الاقوامی اصولوں کے تحت نیلامی کے ذریعے ہی کسی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا جاتا ہے ۔ ایسا معاہدہ ہونا چاہیے تھا جس میں بلوچستان کے مفادات کا تحفظ ہو ۔
دسمبر 2009میں آغاز حقوق بلوچستان کے تحت فیصلہ کیا گیا تھا کہ سیندک معاہدہ ختم ہونے کے بعد سیندک کی تمام ملکیت حکومت بلوچستان کی ہوگی لیکن حکومت بلوچستان اپنی نا اہلیوں کی وجہ سے سیندک کی ملکیت کا دعوی نہیں کررہی۔
موجودہ چینی کمپنی کے ساتھ معاہدے میں حکومت بلوچستان نے اپنے حقوق سے دستبراد ہوکر محض ایک گواہ کی حیثیت سے دستخط کئے۔ ہم عدالت پر اعتماد رکھتے ہیں اور فریقین کے جوابات کی منتظر ہیں۔جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل عبداللہ جان کاکڑکا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی جابب سے جواب جمع کر ادیا گیا ہے ۔
ہمیں اس بات پر اعتراض ہے کہ درخواست غلط طریقے سے جمع کی گئی ہے۔درخواست گزار حکومت کا نمائندہ ہے اور نمائندگی کا حق رکھتا ہے ۔ہمیں امید ہے کہ آئندہ سماعت پرعدالت درخواست مسترد کر دے گی۔
سیندک معاہدے کی توسیع ،عدالت نے وفاقی وصوبائی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا
![]()
وقتِ اشاعت : December 22 – 2017