کوئٹہ: کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں مسیحی برادری نے کرسمس کا تہوار مذہبی عقیدت و احترام اور سادگی سے منائی گئی۔ دہشتگردی سے متاثرہ میتھوڈیسٹ چرچ میں بھی سوگوار ماحول میں دعائیہ تقریب ہوئی۔ دھماکے میں زخمی ہونیوالے افراد بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ تقریب میں رقت آمیز مناظر دیکھے گئے۔
شرکاء بچھڑنے والوں کو یاد کرکے زارو قطار روتے رہے۔ کرسمس کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔تفصیلات کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں بھی مسیحی برادری نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کی خوشی میں کرسمس منائی تاہم اس بار سانحہ میتھوڈیسٹ چرچ کے باعث تہوار سادگی سے منایا گیا۔
17دسمبر کو میتھوڈیسٹ چرچ پر خودکش حملہ میں مسیحی برادری کے نو افراد ہلاک اورساٹھ کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ عارضی طور پر رنگ و روغن کرکے متاثرہ چرچ کو مذہبی سرگرمیوں کیلئے بحال کردیاگیااور پیر کو چرچ میں دعائیہ تقریب بھی ہوئی۔
تقریب میں اقلیتی رکن قومی اسمبلی خلیل جارج ، ولیم برکت اور خواتین اور بچوں سمیت مسیحی برادری کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بشپ آف بلوچستان و کراچی صادق ڈینئل نے دعا کرائی۔
اس موقع پر دہشتگرد حملے کے متاثرین کیلئے بھی دعا کی گئی۔ مسیحی برادری نے ملک و قوم کی سلامتی اور ترقی کیلئے دعائیں مانگتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
دھماکے میں زخمی ہونیوالی پندرہ سالہ نگہت نے بھی شرکت کی ۔ سترہ دسمبر کو دھماکے کے نتیجے میں نگہت اپنے والد اور خاندان کے دیگر چار افراد کے ہمراہ زخمی ہوگئی تھیں۔ نہگت کا کہنا تھا کہ ہم زخمی حالت میں اس لئے یہاں چرچ آئے کہ دہشتگردوں کو پیغام دیں ۔ہم ڈرنے والے نہیں ۔ دعائیہ تقریب میں سانحے میں مرنے والوں کا یاد کرکے ہر آنکھ اشکبار تھی۔
لواحقین اپنے پیاروں کو یاد کرکے ایک دوسرے سے لگ کر زارو قطار روتے رہے۔اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھے گئے۔ انعم اور ان کی بہن بھی دعائیہ تقریب میں شریک تھیں جن کی والدہ خودکش حملے میں جان کی بازی ہار گئی تھی۔
دونوں بہنیں اپنی والدہ کی یاد میں غم سے نڈھال نظر آئیں۔ اس موقع پرگفتگو کرتے ہوئے انعم کا کہنا تھا کہ پہلے اور آج کے کرسمس میں یہ فرق ہے کہ ہماری والدہ اب ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔اس سانحے کے باوجود ہم یسوع مسیح کا پیغام پھیلاتے رہیں گے۔
ان کا پیغام امن کا پیغا م تھا۔ ہماری خواہش ہے کہ اس ملک میں امن آئے اور کسی بے گناہ کی جان نہ جائے۔ اس موقع پر بی این پی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے چر چ آکر مسیحی برادری کے افراد سے اظہار یکجہتی کیا۔ ایف سی غزہ بند سکاؤٹس کے کمانڈنٹ کرنل رب نواز نے مسیحی افرادکو جذبہ خیر سگالی کے تحت مٹھائی پیش کی۔ کرسمس کے موقع پر کوئٹہ میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔
شہر کے39گرجا گھروں کی سیکورٹی پر1450سے زائد پولیس، اے ٹی ایف اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ جبکہ ایف سی کے اہلکاروں کی تعداد اس کے علاوہ تھی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں نے پہلے گرجاگھروں کی سوئپنگ اور کلیئرنس کی اس کے بعد تقاریب کی اجازت دی گئیں۔
اکثر علاقوں میں گرجاگھروں والی گلیوں کو ایف سی اور پولیس کی جانب سے بند رکھا گیا اور وہاں داخل ہونیوالے افراد کی جامع تلاشی کا عمل بھی جاری رہا ۔کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں پولیس ،ایف سی ،کاؤنٹرٹراریزم فورس،بلوچستان کانسٹیبلری اور لیویز فورس کی جانب سے مشکوک افراد اور گاڑیوں کی تلاشی کا عمل جاری رہابلکہ مختلف شہروں کی داخلی اور خارجی راستوں اور حساس علاقوں کی کھڑی نگرانی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں گرجا گھروں کے باہر اور اطراف میں پولیس اور ایف سی کے اہلکار تعینات رہے بلکہ کرسمس کے دن عبادت کیلئے آنے والوں کو واک تھرو گیٹس سے گزار کر گر جا گھروں میں جانے کی اجازت دی گئی س کے علاوہ ملحقہ علاقوں میں پولیس اور ایف سی کے گشت کاسلسلہ بھی دن بھر جاری رہا۔اسی طرح مسیحی آبادی والے علاقوں میں بھی سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔
بلوچستان، کرسمس کا تہوار سادگی سے منایا گیا گرجاگھروں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات
![]()
وقتِ اشاعت : December 26 – 2017