کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں ملک ولی کاکڑ، نوابزادہ لشکری رئیسانی، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء رشید ناصر نے کہاہے کہ جس پارلیمنٹ کی قدرومنزلت وقار اور بالادستی کیلئے ہمارے اکابرین نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں اس پہ لعنت بھیجنے والوں کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔
یہ لوگ جمہوری کہلانے کے لائق نہیں تھرڈ ایمپائر کی انگلی کے اشارے پر سیاست کرنے والے ملک میںآ مریت کی چھتری تلے آئے ہیں جنہیں کندھوں پر بٹھاکر اقتدار میں لایاگیاآج وہی جلسوں میں کھڑے ہوکر اس نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کررہے ہیں۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ موجودہ دور میں پارلیمانی نظام ہی قوموں کی فلاح وبہبود کا ضامن بقاء وسلامتی کا ذریعہ ہے،۔صوبے کے معاملات کو سیاسی جدوجہد سے ہی حل کیاجاسکتاہے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام ممتاز قوم اوروطن دوست رہنماء بلوچ پشتون اتحاد کے علمبردار اور پارٹی کے بانی رہنماء ملک عبدالعلی کاکڑ مرحوم کی آٹھویں برسی کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر آغاحسن بلوچ، ملک نصیر شاہوانی، منظور بلوچ، موسیٰ بلوچ، غلام نبی مری، عمران بنگلزئی، اخترحسین لانگو،خواتین رہنماء زینت شاہوانی، شکیلہ نوید دہوار،فرزانہ بلوچ، فوزیہ بلوچ ودیگر بھی موجود تھے۔
تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملک میں وفاقی سطح پر ایسی کوئی پارٹی اپناوجود نہیں رکھتی جس سے خیر کی توقع کی جاسکے، آمروں اور جعلی انتخابات کے ذریعے پارلیمنٹ میں آنے والوں کو اس کی بالادستی سے غرض نہیں انہیں اقتدارصرف ذاتی مراعات کے حصول کیلئے سونپی گئی ہیں تاکہ وہ قوتیں آسانی سے صوبوں کے وسائل کی لوٹ مارکرسکیں جو انہیں اقتدار میں لائے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں میڈیا کو مکمل طورپر بلیک آؤٹ رکھاگیاہے یہاں خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے مگر میڈیا پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر تبصرے ہورہے ہوتے ہیں ۔
بحیثیت محکوم اقوام کے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں 14افراد کے قاتل اور قصور میں معصوم بچی کے ساتھ زیادتی جیسے واقعات کی مذمت کرتے ہیں مگران واقعات کے ملزم کا کھوج لگانے والی میڈیا کی کیا ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ یہاں قتل ہونے والی ماں بیٹی، پولیس اہلکاروں ہزارہ برادری بلوچ اور پشتون کے قتل میں ملوث عناصر کو کھوج لگائے ۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن کی آڑ میں مظلوموں کیلئے انصاف مانگنے والے اس وقت کہاں تھے جب اپنے پیاروں کی تلاش میں3ہزار کلو میٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنے والوں کی پکار سننے کی بجائے ان پر دروازے بند کئے گئے ۔
صوبے میںآ ج بھی ہزاروں مائیں بہنیں بیویاں اپنے پیاروں کے انتظار میں صبح وشام گزاررہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے افراد کے قتل میں ملوث عناصر کی گرفتاری ریاست کی ذمہ داری ہے اور جب تک ہمارے افراد کے قاتل گرفتارنہیں کئے جاتے ہم ریاست کو اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
سی پیک پر ہمارے تحفظات برقرارہیں ایسی ترقی نہیں چاہتے جس سے یہاں آباد تمام محکوم اقوام کی شناخت اور بقاء کو خطرات لاحق ہوں ۔
ان کا کہنا تھا کہ سی پیک اور ہمارے درمیان سیاہ لکیر کھینچی گئی ہے مغربی روٹ اور ترقی کے دعوے ہمارے لئے نہیں ہیں ۔
صوبے میں بلوچ اور پشتون اپنی سرزمین پرآباد ہیں ان کے درمیان تنازعات کو ہوا دیکر دوریاں پیدا کرنے کی کوششیں کرنے والے بلوچستان کے دشمن ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں وزیراعلیٰ جو بھی ہو امن کے بغیر یہاں ترقی اورخوشحالی نہیں آسکتی ہے۔
صوبے میں قیام امن کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر اراکین اسمبلی اپنے علاقوں تک نہیں جاسکتے، وہاں عام آدمی کی حالت کیا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک عبدالعلی کاکڑ نے1936میں جب سیاست کا آغاز کیا تب سے لیکر اپنی پوری زندگی انہوں نے مظلوم اور محکوم عوام کی خدمت کیلئے صرف کی انہوں نے ناکبھی کسی عہدے کی خواہش کی نا رکن پارلیمنٹ بنے نہ وزیر بنے کیونکہ ان کی سیاسی زندگی میں انسانیت کا مقام اقتدار سے زیادہ تھا ۔
انہوں نے تمام سیاسی ورکروں کو مخلصانہ کردار ادا کرتے ہوئے بلوچستان کی پسماندگی دور کرنے کا درس دیا ۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ آج اپنے اکابرین کی جدوجہد کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچستان کے سیاسی ورکروں کو صوبے کے معاملات کو خود دیکھنا ہے اور انہیں حل کرکے دیکھانا ہے ۔