کوئٹہ: حکومت بلوچستان نے کوئٹہ میں خواتین پولیو ورکرز کو قتل کرنیوالے دہشتگردوں کی گرفتاری پر پچاس لاکھ روپے انعام کا اعلان کردیا۔
سیکریٹری صحت بلوچستان کا کہنا ہے کہ شہید خواتین کے لواحقین کیلئے 34لاکھ روپے امداد اوردو سرکاری نوکریاں دی جائیں گی۔ ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کے مطابق کوئٹہ کے علاقے ہزارگنجی میں دو روز قبل نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو پولیو ورکرز شہید ہوئی تھیں۔
حکومت بلوچستان نے واقعہ میں ملوث دہشتگردوں کی نشاندہی یا گرفتاری میں مدد دینے والے کیلئے پچاس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ ڈی آئی جی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشتگردوں سے متعلق اطلاع دے کر ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ اطلاع دینے والے کی شناخت چھپائی جائے گی۔
دوسری جانب کوئٹہ پولیس نے انسداد پولیو مہم کے دوران کشمیر آباد اور سریاب سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران سولہ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ پولیو مہم میں مصروف ٹیموں کو بھی سخت سیکورٹی فراہم کی گئی ہے۔
دریں اثناء سیکریٹری صحت جاوید انور شاہوانی نے شہید ہونے والے پولیورضاکار ماں اور بیٹی کے لواحقین کے گھر جاکر تعزیت کی اور کہا کہ کہ محکمہ صحت اس رنج وغم میں سوگوارخاندان کے غم میں برابر کے شریک ہے۔
اس موقع پر سیکریٹری صحت نے خاندان کے افراد کو بتایا کہ وزیر اعلی بلوچستان میرقدوس بزنجونے شہید ہونے والے پولیو ورکرز کے لیے فی کس دس لاکھ روپے دہنے کا اعلان کیا ہے ، اور محکمہ صحت و عالمی ادارہ صحت پولیو ایمرجنسی آپریشنل سینٹر کی جانب سے لواحقین کو 14 لاکھ روپے بھی دئے جائیں گے۔جبکہ صوبائی وزیر صحت میر عبدالماجد ابڑو نے محکمہ صحت میں فیملی کے لیے دو آسامیوں کا بھی اعلان کیا ۔
انہوں نے کہاکہ واقعہ میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لئے تمام وسائل برؤے کار لائے جانے کے لئے بھی اقدامت اٹھائے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر خاندان کے افراد نے وزیر اعلی بلوچستان، وزیر صحت، سیکریٹری صحت، پولیو سدباب کے اعلی حکام کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پرپولیو سدباب ایمرجنسی آپریشنل سینٹرکے ڈاکٹر آفتاب کاکڑ بھی سیکریٹری صحت کے ہمراہ تھے۔