|

وقتِ اشاعت :   January 22 – 2018

کوئٹہ: مووآن پاکستان اور عالمی مشائخ گرینڈ الائنس کے اشتراک سے ملک بھر کے بڑے شہروں میں ’’توکل کانفرنسز ‘‘ کے انعقاد کا آغاز کوئٹہ سے کردیا گیا ۔

ملک گیر کانفرنسز کے انعقاد کا مقصد امریکی امداد کی بندش کے بعد کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلام کی روح کے مطابق اللہ پر توکل کے نظریے کا اعادہ کرنا ہے ۔

کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ کانفرنس سے عالمی علماء ومشائخ گرینڈ الائنس کے صدر پیر خالد سلطان القادری، صوبائی وزیر صحت عبدالماجد ابڑو، مووآن پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ میاں کامران ، مخدوم پیر سید ہارون شاہ الگیلانی، جمعیت نظریاتی کے صوبائی امیر مولانا عبدالقادر لونی، اسفند یار جمالی، سکینہ عبداللہ، جماعت الصالحین کے غازی کمال ،صلاح الدین محمد حسنی، ادریس مغل ودیگر کا خطاب نے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان میں بلوچستان کے غیور بلوچ اور پشتونوں کے اکابرین کی علماء ومشائخ کے ہمراہ دی جانیوالی قربانیوں کے اعتراف میں آج ہم نے بلوچستان سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنے کے لیے چلائی جانے والی تحریک کی بنیاد رکھی ہے ۔

پاکستان اور عالم اسلام کو درپیش مسائل کا حل اسلامی تعلیمات اورآقاء دوجہاں حضرت محمد ﷺ کی سیرت پر عملدرآمد سے ہی ممکن ہے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں پوری قوم پاک فوج کی پشت پر کھڑی ہے ۔

ملک کے محافظ سرحدوں کی نگہبان اور علماء و مشائخ نے قوم کو اکٹھا کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے ۔رہنماؤں کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ایک منظم سازش کے تحت یہود اور نصاریٰ نے مسلمانوں پر نہ ختم ہونے والی جنگ مسلط کررکھی ہے۔ فرقہ مسلک اور زبان کی بنیاد پر مسلمانوں کو تقسیم کرکے انکی قوت کو منتشر کرکے اُنھیں آپس میں دست وگریباں کیا گیا ۔

عراق، افغانستان،شام ،یمن،برما میں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد اب بھی امریکہ پاکستان سے دہشتگردی کی آڑ میں جاری ذاتی مفادات کی جنگ کے لیے پاکستان سے تعاون کا طلب گار ہے اورمعاونت نہ کرنے پر پاکستان کی مالی امداد بند کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی مفادات کے لیے مسلمانوں کو دہشتگردی کے بھیٹ چڑھانے والے حکمرانوں کو اب امریکہ اور آئی ایم ایف کے سامنے اپنے ہاتھ میں تھامے کشکول کو توڑ کر دنیا بھر میں اسلام کے پرچم کی سربلندی کے لیے پہل کرنی چاہیے۔ قومیں بھوک سے نہیں بے ضمیری سے اپنی موت آپ مرجاتی ہیں۔

موجودہ صورتحال کی پیشگوئی 400 سال قبل اولیا اللہ نے کی تھیجن کی برکتوں سے دہشتگردی کا شکار گھمبیر مسائل سے دوچار ہونے کے باوجود پاکستانی عوام پرسکون ور اطمینان بخش زندگی گزاررہے ہیں ۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کلمہ کے نام پر معرض وجود میں آنے والی مملکت خداداد میں قدرت کی عطاء کردہ بے شمار معدنیات اور وسائل موجود ہیں ۔ اگر کسی چیز کی کمی ہے تو وہ اتحاد اور یکجہتی کی ہے جس کے فروغ کے لیے ملک کے تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنا کردار ادا کرناہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کی کامیابی اور پاک فوج کے جوانوں کی بے مثال قربانیوں کی بدولت آج ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہوا ہے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی 20 کروڑ عوام پاک فوج کی پشت پر کھڑی ہے ۔

ہر دور میں اولیاء اللہ اپنی خانقاہوں اور آستانوں میں عالم اسلام کا درد سینے میں لیے مسلمانوں کو اکٹھا کرنے کی جدوجہد میں مصرف رہے اور ایک مربتہ پھر انکے سجادہ نشین اور مریدین نے کفار کے مقابلے میں امت کو اکھٹا کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے جس میں امت کی بقاء اور خیر ہے ۔اس موقع پر مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا ۔ جبکہ مریدین سمیت سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی