|

وقتِ اشاعت :   January 22 – 2018

کوئٹہ: کوئٹہ میں خروٹ آباد واقعہ کے ایک اور کردار کو ہدف بناکر قتل کردیا گیا۔ سابق ایس ایچ او ایئر پورٹ فضل الرحمان کو فاطمہ جناح روڈ پر نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کے مطابق اتوار کی دوپہر پینتالیس سالہ فضل الرحمان کاکڑ تھانہ سٹی کی حدود میں فاطمہ جناح روڈ میٹھا مل اسٹریٹ میں زیرتعمیر شوروم میں دوستوں کے ہمراہ بیٹھے تھے اس دوران نامعلوم افراد نے انہیں گولیاں مار کر قتل کردیا اور باآسانی فرار ہوگئے۔

مقتول کی لاش سول ہسپتال پہنچائی گئی جہاں ڈاکٹر نے بتایا کہ فضل الرحمان کو پانچ گولیاں سر، چہرے، سینے اور بازو میں ماری گئیں۔

پولیس کے مطابق فائرنگ دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار نقاب پوش حملہ آوروں نے کی۔ جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول اور میگاروف کے خالی خول ملے ہیں۔

پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تفتیش شروع کردی۔ عینی شاہدین کے مطابق فضل الرحمان گاڑیوں کا کاروبار کرتے تھے اس لئے وہ فاطمہ جناح روڈ اور ملحقہ علاقوں میں موجود شوروم آنا جانا ان کا معمول تھا۔ ان کا تعلق پشین علاقے بوستان سے تھا۔

یاد رہے کہ فضل الرحمان خروٹ آباد واقعہ کے وقت علاقے کے ایس ایچ او تھے۔ یاد رہے کہ 17مئی 2011ء کو کوئٹہ کے علاقے خیزی چوک خروٹ آباد میں پولیس اور ایف سی اہلکاروں نے خواتین سمیت پانچ چیچن باشندوں کو دہشتگرد قرار دیتے ہوئے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔

واقعہ کے بعد بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تشکیل دیئے گئے عدالتی ٹربیونل نے سو صفحات پر مشتمل رپورٹ میں سابق سی سی پی او داؤد جونیجو، ایف سی کے کرنل فیصل، ایئر پورٹ تھانہ کے ایس ایچ او فضل الرحمان اور اے ایس آئی رضا خان کو اختیارات کے غلط استعمال اور واقعہ کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ عدالت کی سفارش پر ایس ایچ او فضل الرحمان اور اے ایس آئی رضا خان کو پولیس فورس سے برطرف کردیاگیا تھا۔

فضل الرحمان سے قبل برطرف اے ایس آئی رضا خان کو بھی اگست 2013ء میں کوئٹہ کے علاقے کلی مبارک میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔جبکہ غیرملکیوں کا پوسٹ مارٹم کرنیوالے بولان میڈیکل ہسپتال سرجن باقر شاہ کو بھی دسمبر 2011ء میں کوئٹہ کے علاقے سبزل روڈ پر نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔ دوسری جانب کالعدم دہشتگرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے فضل الرحمان کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں دہشتگرد تنظیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اے ایس آئی رضا خان کی طرح فضل الرحمان کو بھی ان کی تنظیم نے ہی نشانہ بنایا۔ بیان کے ساتھ کالعدم تنظیم نے سابق ایس ایچ او کو قتل کرنے سے چند لمحے قبل کی تصویر بھی جاری کی ہے جس میں وہ کرسی پر بیٹھے نظر آتے ہیں۔

پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے مختلف پہلوؤں پر تفتیش شروع کردی ہے۔دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجونے مسجد روڈ پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے سابق ایس یچ او فضل رحمان کاکڑ کے واقعہ پررنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امن کے دشمن اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کے دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے ۔

سوگوار خاندان سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے دعا کی کے اللہ تعالیٰ شہید کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطاکرے۔ گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی اتوار کے روز نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سابق ایس ایچ او فضل الرحمان کی شہادت پر رنج وافسوس کا اظہار کیا۔

اپنے ایک مذمتی بیان میں انہوں نے دہشت گردی کے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وقت آپہنچا ہے کہ ہم سب پر زمہ داری ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑکر دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بھرپور اقدامات اٹھائیں۔

سماج دشمن عناصر اور شرپسند عناصر کے ناپاک عزائم کوخاک میں ملانے کیلئے ہمیں قومی اتحادواتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے شہیدسابق ایس ایچ او کی مغفرت اور سوگوارخاندان کوصبر وہمت دینے کی دعا کی۔