کوئٹہ: کوئٹہ میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ تھم نہ سکی۔ سریاب روڈ پر دکان پر فائرنگ کرکے ایک اور اہلکار کو قتل کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ اتوار کی دوپہر کوئٹہ کے تھانہ کیچی بیگ کی حدود میں شاہوانی اسٹیڈیم کے قریب پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے درزی کی دکان میں گھس کر پولیس اہلکار احمد خان ولد محمدا نور سرپرہ سکنہ کلی گوگڑائی کو گولیاں مار کر قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔
پولیس کے مطابق بتیس سالہ احمد خان اے ٹی ایف پولیس میں ڈرائیور تھا اور اے ٹی ایف کمپلیکس مشرقی بائی پاس میں رات کو ڈیوٹی دینے کے بعد صبح کے وقت درزی کا کام کام کرتے تھے۔
مقتول اہلکار کے خالہ زاد بھائی محمد شریف نے بتایا کہ احمد خان کی ایک سال قبل ہی شادی ہوئی تھی۔انہوں نے سوگواروں میں بیوہ اورکمسن بیٹی چھوڑی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ احمد خان نے بارہ سالہ ملازمت میں کبھی چھٹی نہیں کی اور انتہائی ایمانداری کے ساتھ اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتا تھا۔ وہ انتہائی محنتی تھی اس لئے ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ درزی کا کام کرکے اپنا گھر بار چلارہا تھا۔
محمد شریف کے مطابق ان کی کسی سے دشمنی نہیں۔ ظالموں نے معلوم نہیں کس گناہ میں ہنستا بستا گھر اجاڑدیا۔
انہوں نے گورنر،وزیراعلیٰ ،چیف جسٹس اور آئی جی پولیس نے واقعہ کا نوٹس لیکر قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
یاد رہے کہ کوئٹہ میں نئے سال کے پہلے چار ہفتوں میں ایک خودکش بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کی چار وارداتوں میں میں دس پولیس اہلکار جاں بحق ہوچکے ہیں۔