|

وقتِ اشاعت :   January 31 – 2018

کوئٹہ: کوئٹہ میں تیرہ سالہ بہن کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ملزم کو عدالت نے چار روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ 

پولیس کے مطابق ملزم کامران کو سخت سیکورٹی میں جوڈیشل مجسٹریٹ گیارہ صدام حسین کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس کی درخواست پر عدالت نے ملزم کو چار روز کے جسمانی ریمانڈ پر جناح ٹاؤن پولیس کی تفتیشی ٹیم کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ 

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے دوران تفتیش کوئٹہ کے کلی اسماعیل میں واقع اپنے گھر میں اپنی تیرہ سالہ بہن کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ زیادتی کی تصدیق کیلئے پولیس نے ملزم کامران کے ڈی این اے نمونے لیکر فارنزک لیبارٹری بجھوائے ہیں۔ 

ملزم کے بڑے بھائی محمود اور دو ہمسائیوں کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی شک کی بنیاد پر حاصل کرکے فارنزک لیبارٹری بجھوائے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فارنزک رپورٹ آنے کے بعد ملزم کو اعترافی بیان کیلئے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائیگا۔

بلوچستان میں اہل شخص کو ایڈوکیٹ جنرل بنایا جائے ،وکلاء تنظیم
کوئٹہ(آن لائن)بلوچستان کے وکلاء تنظیموں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ تعینات ہونیوالے ایڈووکیٹ جنرل بارے اپنا فیصلہ واپس لیں اور ایک اہل اور صوبے کے حقیقی باشندے کو بلوچستان ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں تعینات کیاجائے ۔

بلوچستان بار کونسل ،کوئٹہ بار ایسوسی ایشن اور بلوچستان ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن کے نمائندہ اجلاس کے مشترکہ اجلاس کے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے وزیراعلی بلوچستان کی طرف سے آئین ،قانون،قواعدوضوابط اور صوبے کے معروضی حالات اور سوا کروڑ اکثریتی باشندوں کی حیثیت کو پامال کرتے ہوئے کسی فرد کو سیاسی رشوت کے تحت ایڈووکیٹ جنرل نامزد کرنا انصاف،اخلاق اور شفافیت کے خلاف ہیں ۔

افسوس کی بات ہے کہ مبینہ طور پر نامزد ایڈووکیٹ جنرل کی اہلیہ محترمہ نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے سابق وزیراعلی بلوچستان کی عدم اعتماد تحریک پر دستخط کردی اس سلسلے میں ان کے خاوند کو ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نامزد کیا گیا جن کا صوبہ سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر ان کو میرٹ کے برعکس محض سیاسی بنیاد پر نامزد کرنا صوبے کے وکلا کو قطعا قبول نہیں۔

ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے اور ایک اہل اور صوبے کے حقیقی باشندے کو بلوچستان ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں تعینات کیاجائے جو بلوچستان کے مرگ و زند گی کا حصہ ہو اس امر کے مطالبے کا مقصد کسی خاص زبان،قوم اور علاقے سے امتیاز نہیں بلکہ صوبے کے تمام اقوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنا نا ہے جو صدیوں سے آباد ہیں ۔

یہیں پیدا ہوئے اور ان کے آباو اجداد کی قبریں یہاں پر ہیں اس کے اندر بلوچ،پشتون،آباد کار،ہزارہ،مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تمیز نہیں یہی وجہ ہے بلوچستان ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے حال ہی میں صوبے کے تمام باشندوں کو ایک ہی طرز پر برتنے کا حکم صادر کردیا جو بھی صوبے میں پیدا ہوا ۔

ہو وہی یہاں کے مراعات کو استحقاق رکھتا ہے محض مفادات کو بٹورنے کے لئے صوبے میں وارات نہ کریں بلارنگ زبان،علاقے قوم سے تعلق رکھتے ہوں ان کو صوبے کے آئینی اداروں میں تقرری کو قطعی طور برداشت نہیں کرینگے جو محض کسی ڈومیسائل یا نام نہاد لوکل کی بنیاد پر صوبے کے سوا کروڑ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالے۔