|

وقتِ اشاعت :   February 7 – 2018

کوئٹہ: لالہ صدیق بلوچ گوکہ دو اخبارات کے مالک تھے مگرہمیشہ ان کی لگن ومحبت انگریزی صحافت سے زیادہ رہی۔کئی مواقعوں پر لالہ صدیق بلوچ کا برملا کہنا تھا کہ انگریزی صحافت میں کام کرنے کا الگ ہی انداز ہے۔

جبکہ اردو صحافت میں ہزاروں لفظوں کا مجموعہ ہونے کے باوجود اس میں وہ تاثیر نہیں جو انگریزی کے کم لفظوں میں ایک بہترین اسٹوری کرتا ہے۔ لالہ صدیق بلوچ ہمیشہ صحافت سے وابستہ اپنے شاگردوں کو کہا کرتے تھے ۔روزنامہ بلوچستان ایکسپریس میرالاڈلہ ہے۔کیونکہ بلوچستان ایکسپریس کی پیٹ سے اردو اخبارروزنامہ آزادی نے جنم لیا ہے۔