کوئٹہ: لالہ صدیق بلوچ کی کرسی آج خالی دیکھ کرساتھی آنسو روک نہیں پائے۔
لالہ صدیق بلوچ اپنے پچاس سالہ صحافتی خدمات کے اخری ایام تک روزانہ صبح 10 سے 2 اور مغرب سے رات کے 11 بجے تک اپنی کرسی پر بیٹھے کام میں مصروف رہتے تھے ہر وقت انکے ہرد گرد ایک چہل پہل لگی رہتی تھی ۔
روزنامہ بلوچستان ایکسپریس اور روزنامہ آزادی کے کارکن لالہ صدیق بلوچ کے ساتھ کسی نہ کسی خبر پر بحث ومباحثہ کرتے اگر کچھ نہیں تو لالہ صدیق بلوچ سے دیگر موضوعات پر روزانہ گفتگو کرکے جیسے لطف آتا۔
افسوس آج کرسی پر لالہ صدیق بلوچ کی عدم موجودگی اخبارات کے عملے کو انکا سایہ چھن جانے کی یاد دلاتا رہا جیسے رات آج کٹ ہی نہیں چھبتی رہی۔