|

وقتِ اشاعت :   February 7 – 2018

کوئٹہ: لالہ صدیق بلوچ زمانہ طالب علمی سے صحافت اور سیاست دونوں میدان میں رہے۔ جب نیپ کی سیاسی سرگرمیاں عروج پر تھی لالہ صدیق بلوچ اپنی سیاسی سرگرمیاں نبھارہے تھے ۔

لالہ صدیق بلوچ میر غوث بخش بزنجو کے انتہائی قریبی دوست تھے یہاں تک کے دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک خاندانی تعلق رہا ہے ۔ 70ء کی دہائی میں پورے ملک میں سیاسی درجہ حرارت عروج پر تھا۔

ایک گہما گہمی جاری تھی ، لالہ صدیق بلوچ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف عمل تھے نیشنل عوامی پارٹی کے جتنے بھی تقریبات کراچی میں منعقد کئے جاتے اس کی ذمہ داری لالہ صدیق بلوچ، لالہ لال بخش رند، لالہ فقیر محمدودیگر ساتھیوں پر تھی ، لالہ صدیق بلوچ قلم سے لکھی گئی روزانہ کی سیاسی سرگرمیوں روداد سے ایوان میں بیٹھے حکمران ہل جاتے ۔

لالہ صدیق بلوچ کے سیاسی دوست میں میرغوث بخش بزنجو، سردار عطاء اللہ خان مینگل،نواب خیربخش مری، نواب اکبر خان بگٹی، خان عبدالولی خان اور مفتی محمود جیسے نامور لیڈر شامل ہیں۔

صدیق بلوچ ہمیشہ نجی محفل لگاتے تو سیاست کے پرانی باتوں کا ذکرکیا کرتے ایک مرتبہ ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک بار میرے ہی ایک بزرگ دوست نے مجھے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا کیونکہ میری سیاسی وابستگی میرغوث بخش بزنجو سے زیادہ تھی ، جس کی مجھے خبرہونے کے باوجودمیرا مؤقف یہ رہا کہ ’’ موت کے خوف سے سیاسی سوچ بدل نہیں سکتا‘‘ ۔