کوئٹہ : بلوچستان کے سینئر صحافیوں اور ادیبوں نے سینئر صحافی لالہ صدیق بلوچ کے بلوچی زبان ادب اور انکے صحافتی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدیق بلوچ کے ساتھ جڑی یادوں کا بیان کرنا کھٹن عمل ہے انہوں نے قیدوبند کی صعوبتیں مالی مشکلات کوخاطر میں لائے بغیر زندگی کے آخری روز تک ایک نظریہ اور سوچ کے ساتھ منسلک رہے ۔
کئی زبانوں پرعبوررکھنے والے صدیق بلوچ اپنے اندر ایک درسگاہ تھے جس نے کئی صحافیوں اور نوجوانوں کی علمی پیاس بجھائی ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی سلیم شاہد، امان اللہ شادیز ئی،آصف بلوچ، ممتاز یوسف اور سنگت رفیق نے لالہ صدیق بلوچ کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
اس موقع پر ڈان نیو ز کے بیوروچیف اور سینئر صحافی سلیم شاہد کا کہنا تھا کہ صدیق بلوچ کے ساتھ بہت پرانی یادیں وابستہ ہیں جنہیں ایک لمحہ میں بیان کرنا شاہد مشکل عمل ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ انتہائی مشکل حالات میں بھی لالا کو کبھی جیل جانے یا مرنے کا خوف نہ تھا انہوں نے ہمیشہ بلوچستان کے قومی مفادات ، مفلوک الحال عوام کی مظلومیت کے خاتمہ اور عوام کو انصاف کی فراہمی کی جدوجہد کو اپنے قلم کی نوک پر رکھا ۔
ان کا کہنا تھا کہ جب میں امریکہ میں گیا تو وہاں اندازہ ہوا کہ صدیق بلوچ دنیا میں کتنے مقبول صحافی ہیں، امریکی صحافی بھی صدیق بلوچ کی قلمی جدوجہد کے معترف تھے ۔
ان کا کہنا تھا کہ صدیق بلوچ کو اردو، انگریزی سمیت بہت سی زبانوں پر عبور حاصل تھا ۔ تعزیتی ریفرنس سے سینئر صحافی امان اللہ شادیز ئی کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میری پہلی ملاقات صدیق بلوچ سے 1973 میں ہوئی تھی یہ وہ زمانہ تھا جب کوئی بات کرنے سے کتراتا تھا ۔
اس وقت بھی صدیق بلوچ نے بلوچوں کی توانا آواز بنے رہے ۔ ان کی صحافتی اور قومی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محروم لالہ صدیق بلوچ کے فرزند اور روزنانہ آزادی کے ایڈیٹر آصف بلوچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہوں نے صدیق بلوچ کو ہمیشہ اپنا استاد گردانا ان کی شفقت کے سائے تلے وہ کچھ سیکھنے کو ملا جو شاہد کئی برسوں میں نہ سیکھ پاتا ۔
ان کا کہنا تھا کہ کینسر جیسے موذی مرض بھی لالہ صدیق بلوچ کو انکے قلم سے دور نہیں کرپائی جب وہ ہسپتال میں زیر علاج تھے تب وہ اخبار کا اداریہ خود لکھا کرتے تھے اور شام کے وقت مجھے ساتھ میں بیٹھا کر میری تربیت کیا کرتے انہوں نے کبھی مجھے محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ ہم یہاں علاج کے لیے آئے ہیں ۔
انہوں نے ہسپتال کے ماحول کو بھی اخبار کی دفتر کی طرح کرکھا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب صدیق بلوچ نے آزادی اخبار میں بلوچی صفحہ کی اشاعت شروع کی تھی ان کا کہنا تھا کہ آج بلوچ قوم کی حقیقی ترجمانی کے لیے آزادی اخبار مکمل ہوچکا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ صدیق بلوچ نے اپنی پوری زندگی بلوچ قوم کی خدمت کے لیے وقف کررکھی تھی۔آصف بلوچ کا صدیق بلوچ کی زیر التواء کتابوں کا ذکر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صدیق بلوچ کی کچھ کتابیں مختلف موضوعات پر چھپنے کے مراحل میں ہیں جن میں دو کا کام مکمل ہوچکا ہے اور دیگر پر کام جاری ہے۔
اس موقع پر بلوچی اکیڈمی کے چیئرمین ممتاز یوسف نے تقریب میں شریک افراد کا شکریہ اد ا کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بزرگ صحافی صدیق بلوچ کی بلوچ قومی خدمات کے اعتراف میں بلوچی اکیڈیمی انکے زیر التواء کتابوں کی اشاعت میں ہر ممکن معاونت فراہم کریگی ۔
تعزیتی ریفرنس میں بلوچی زبان و ادب سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں شریک تھے ۔