|

وقتِ اشاعت :   February 22 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں پشتونخوامیپ اور نیشنل پارٹی نے سینیٹ کے انتخابات کیلئے اتحاد کرلیا۔ دونوں جماعتوں نے اتحاد میں ن لیگ کو شامل کرنے کیلئے بھی کوششیں شروع کردیں۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں سینیٹ کے انتخابات کیلئے جوڑ توڑ شروع ہوگیا۔ ثناء اللہ زہری کا تختہ الٹنے کے بعد اپوزیشن میں شامل ہونیوالی سابق حکمران اتحادی جماعتوں پشتونخواملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے سینیٹ کے انتخابات بھی ملکر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پشتونخوامیپ کے سینیٹر عثمان کاکڑ کے مطابق اسلام آباد میں پشتونخواملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے سینیٹ انتخابات ملکر لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ہمارا گزشتہ انتخابات کے دوران بھی اتحاد رہا۔ انہوں نے بتایا کہ پشتونخوامیپ کے تین اور نیشنل پارٹی کے دو امیدواروں کو کامیاب کرایا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ ن لیگ سے بھی اتحاد کی کوشش کی جارہی ہے۔

عثمان کاکڑ نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی تفصیل نہیں بتائی تاہم ذرائع نے بتایا ہے کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی جنرل کی دو نشستوں پر سردار شفیق ترین اور یوسف خان کاکڑ کے علاوہ خواتین کی نشست پر عابدہ عمر کامیاب کرانا چاہتی ہے۔

بلوچستان اسمبلی سے سینیٹ کی جنرل کی ایک نشست پرکم سے کم نوووٹوں جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹک کی نشست پر کامیابی کیلئے کم سے کم بتیس ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔ پشتونخوملی عوامی پارٹی کے پاس تیرہ ارکان ہیں۔ جنرل کی ایک نشست پر پشتونخوامیپ آسانی سے کامیابی حاصل کرلے گی۔

جنرل کی دوسری نشست اور خواتین کی نشست پر نیشنل پارٹی پشتونخوامیپ کی حمایت کرے گی۔ جبکہ پشتونخواملی عوامی پارٹی ٹیکنوکریٹ کی نشست پر نیشنل پارٹی کے طاہر بزنجو کی حمایت کرے گی۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ جنرل کی نشست پر نیشنل پارٹی کے کہدہ اکرام با آسانی منتخب ہوجائیں گے۔

ذرائع کے مطابق دونوں اپوزیشن جماعتیں ن لیگ کے ثناء اللہ زہری گروپ سے بھی اتحاد کیلئے بات چیت کررہی ہیں۔ اتحاد کی صورت میں تینوں جماعت کے زیادہ سے زیادہ چھ سینیٹر منتخب ہوسکتے ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی، اے این پی اور بی این پی عوامی نے بھی اتحاد کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں۔ یاد رہے کہ بلوچستان سے سینیٹ کی گیارہ خالی نشستوں کے انتخاب میں پچیس امیدوار میدان میں ہیں۔ پولنگ تین مارچ کو ہوگی۔