کوئٹہ : ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے زیر اہتمام بولان میڈیکل کالج کیلئے لیے جانے والے انٹری ٹیسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کیخلاف طلباؤطالبات کا کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا جاری۔
احتجاج پر بیٹھے طلباء وطالبات کا روزنامہ آزادی سے گفتگوکرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایچ ای سی کی جانب سے ہونے والی بے ضابطگیوں کے ہم عینی شاہد ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو ہفتوں سے زاہد جاری احتجاج دھرنے میں ٹیسٹ کے ٹاپرزطلباء بھی شریک ہیں جن کا مقصد میڈیکل ٹیسٹ میں ہونے والے زیادتیوں کیخلاف آواز بلند کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی ٹیم نے ٹیسٹ میں نقل اور بے ضابطگیوں کی تصدیق کی ہے۔
15سال بعد اس لئے ٹیسٹ ایچ ای سی کے حوالے کیا گیا کیونکہ ڈاکٹ سے سوال پرنٹ ہوکر آتے تھے۔ ہمیں کسی ٹیسٹنگ سروس سے مسئلہ نہیں اگر یہ ٹیسٹ صاف شفاف ہوتا ہمیں کیا ۔
ان کا کہنا تھاکہ ٹیسٹ میں دو موبائل فون پکڑے گئے تھے جن کی تصدیق ڈپٹی کمشنر نے اپنی رپورٹ میں کی ہے۔
ان کہنا تھا کہ اپنے جائزمطالبات کے لیے احتجاج پربیٹھے طلباء وطلبات کے مسائل کے حل کی بجائے پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے ان پرلاٹھیاں برسائے گئے۔
ان کا مطالبہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ٹیسٹ میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرائی جائے اور ایچ ای سی سابق ٹیسٹ کے نتائج منسوخ کرتے ہوئے از سرنو ٹیسٹ کا انعقاد کرے ان کا کہنا تھا کہ انصاف کے حصول تک ہمارا دھرنا جاری رئیگا۔