|

وقتِ اشاعت :   February 28 – 2018

کوئٹہ : کوئٹہ میں پی ڈی ایس پی حمید اللہ دستی قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے۔ حملے میں دو محافظ شہید ہوگئے۔ گولیوں کی زد میں آکر ڈھائی سالہ بچہ اور نجی بینک کا سیکورٹی گارڈ بھی زخمی ہوگئے۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ بدھ کی صبح تقریبا نو بجے اسمنگلی روڈ پر ڈسٹرکٹ جیل کے قریب اس وقت پیش آیا جب پراسکیوٹر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس حمیداللہ دستی ارباب ٹاؤن میں واقع اپنی رہائشگاہ سے اہلیہ عندلیب عباسی ایڈووکیٹ کے ہمراہ ہائی کورٹ کی طرف جارہے تھے۔

ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کے مطابق دہشتگرد پہلے سے پوزیشن لئے تھاک میں کھڑے تھے جیسے ہی پی ڈی ایس پی کی گاڑی قریب پہنچی تو دہشتگردوں نے مختلف اطراف سے فائرنگ کردی۔ گاڑی بلٹ پروف ہونے کی وجہ سے حمیداللہ دستی محفوظ رہے جبکہ ڈبل کیبن گاڑی کی پچھلی جانب بیٹھے دو محافظ شہید ہوگئے۔

ڈی آئی جی کے مطابق ابتدائی شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ آوروں کی کم از کم تعداد تین تھی۔ ڈی آئی جی پولیس نے بتایا کہ گاڑی کی پچھلی جانب دونوں اطراف سے بھی بلٹ پروف لوہے کی چادر لگائی گئی تھی اور اہلکاروں نے بھی بلٹ پروف جیکٹس پہن رکھی تھیں ۔

انہوں نے بھر پور جوابی فائرنگ بھی کی تاہم سر میں گولیاں لگنے سے وہ شہید ہوگئے۔ حملے میں نجی بینک کا سیکورٹی گارڈ اور ڈھائی سالہ بچہ بھی زخمی ہوا۔ لاشوں اور زخمیوں کو سول ہسپتال پہنچایا گیا۔ لاشوں کی شناخت پولیس کانسٹیبل محمد طاہر ولد شاہ مرزا خان دوتانی سکنہ دوتانی محلہ پشتون آباد کوئٹہ اور ایوب شاہ ولد عظیم شاہ قوم سید سکنہ شیخ ماندہ ایئرپورٹ روڈ کوئٹہ کے نام سے ہوئی ہے۔

محمد طاہر کو چار گولیاں جبکہ ایوب شاہ کو آٹھ گولیاں سر، چہرے اور جسم کے مختلف حصوں میں ماری گئیں۔

زخمیوں میں ڈھائی سالہ سمیع اللہ ولد خدائے داد کاکڑ سکنہ کلی اسماعیل نزد گورا قبرستان کو پیٹ میں ایک گولی لگی ہے اور اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جبکہ دوسرے زخمی جی ایس بینک کے سیکورٹی گارڈ گل جان ولد سید عبدالقاہر قوم سید سکنہ شیخ ماندہ الماس چوک کوئٹہ کو دائیں ہاتھ میں ایک گولی لگی ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

واقعہ کے بعد پولیس ، ایف سی اور حساس اداروں کے آفیسران اور اہلکاروں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر پہنچی اور شواہد اکٹھے کئے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی تفتیش میں مدد لی جارہی ہے۔ فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک سفید رنگ کے کپڑے پہنے پیدل حملہ آور تاک میں کھڑا ہے جس نے شناخت چھپانے کیلئے سر پر کیپ اور چہرے پر کپڑا ڈھانپا ہے۔

سڑک کی دوسری جانب دو حملہ آور کھڑے نظر آتے ہیں۔ جیسے ہی گاڑی قریب آتے ہیں تو وہ اندھا دھند فائرنگ شروع کردیتے ہیں۔ فائرنگ کے نتیجے میں پی ڈی ایس پی کی گاڑی سے دھواں اٹھتے ہوئے نظر آتا ہے۔ فوٹیج میں حملہ آوروں کو پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے بچتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

پولیس کے مطابق موقع سے کلاشنکوف کے پینتالیس اور نائن ایم ایم پستول کے نو خول ملے ہیں۔ گاڑی کے اگلی اور اطراف کے شیشوں اور پچھلی جانب پچیس سے زائد گولیاں لگی ہیں۔

اگرچہ ڈی آئی جی پولیس نے گاڑی میں پچھلی جانب لگائی گئی لوہے کی پلیٹ کو بلٹ پروف قرار دیا لیکن اس پلیٹ پر دس گولیاں لگی ہیں جن میں سے بیشتر پلیٹ سے کراس ہوگئی تھی اور شاید یہی گولیاں پولیس اہلکاروں کیلئے جان لیوا ثابت ہوئیں۔