کوئٹہ: بلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کہاہے کہ بلوچستان کے سیاسی اکابرین نے جن اصولوں کا تعین کیا تھا آج اہم اس سے کوسوں دور چلے گئے ہیں ۔
ون یونٹ کے خاتمے میں ایوبی آمریت کیخلاف جدوجہد کرنے والوں کی سرزمین پر وہ لوگ حکمران ہیں جنہیں سیاست کی ابجد تک کا علم نہیں پیسے کی ریل پیل سے منتخب ہوکراسمبلی کے ایوانوں تک رسائی حاصل کرنے والوں کا احتساب سیاسی کارکنوں نے کرنا ہے۔
صوبے میں 44ووٹوں کی روایت ڈالنے والے آواران میں کھلی کچہری لگاکر شورش کا شکار عوام کی داد رسی کریں سینٹ انتخابات میں ووٹوں کی خریدوفروخت کی باز گشت صوبائی سیاسی جماعتوں کیلئے کسی بڑے المیہ سے کم نہیں،سی پیک سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کا واک واختیار صوبائی حکومت کے حوالے کیاجائے 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کے ملنے والے اختیارات کوسلب کرنے سے ملک بحرانوں کا شکار ہے ۔
ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام میر عنایت اﷲ لانگو کی تیسری برسی کے موقع پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائمقام صدر ملک ولی کاکڑ مرکزی رہنماء لشکری رئیسانی، آغا حسن بلوچ،بی ایس او کے چیئرمین نذیر بلوچ،ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب صدر رضا وکیل اے این پی کے سیکرٹری اطلاعات مابت کاکا،بی این پی کے رہنماؤں ملک نصیر شاہوانی، منظور بلوچ، موسیٰ بلوچ، رؤف مینگل،سابق سینیٹر ثناء بلوچ اختر حسین لانگوودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ میر یوسف عزیز مگسی سے لے کر میر عنایت اﷲ لانگو تک نے بلوچ قوم کی ترقی تعلیم معیشت اور صوبے کے استحکام اور انسانیت کی فلاح وبہبود اور معاشرے میں خواتین کو برابری کا رتبہ دینے کیلئے جدوجہد میں صف اول کا کردارادا کیااوراصولوں کی سیاست پر کاربند رہتے ہوئے اپنی ذات کو اجتماعی قومی مفادات کیلئے وقف کررکھاتھاایسے عظیم انسان صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جن کے نزدیک گروہی انفرادی مفادات اہمیت نہیں رکھتے ۔
مقررین کا کہنا تھا کہ موجودہ صوبائی حکومت قیام امن میں ناکام ہوچکی ہے حکومت بازاروں شاہراہوں تھانوں اور ہوٹلوں کے دورے کی بجائے شورش زدہ علاقوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور وہاں جاکر کھلی کچہری لگائیں مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی ترقی مخالف نہیں ایسی ترقی نہیں چاہتے جس سے ہمارے تشخص بقاء کو خطرات لاحق ہوں ۔
گوادر کے باسی پینے کے پانی اور زندگی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اسلام آباد میں منعقدہ آل پارٹیز کی سفارشات پر عملدرآمداور تجاویز کو سرد خانے کی نظر کرنے والے خطے کی تقدیر بدلنے کے خواہاں ہیں مقررین کا کہنا تھاکہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کیلئے وفاق گوادر پورٹ سمیت ساحل ووسائل پر واک واختیار صوبے کو منتقل کرے ۔
مقررین کا کہنا تھاکہ صوبے کے باشعور عوام صوبے کے وسیع تر قومی مفاداپنے تشخص بقاء اور سلامتی کو برقراررکھنے کیلئے ایک آواز ہوکر سیاسی جمہوری انداز میں حقوق کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں تاکہ ماضی میں یہاں مذہبی منافرت نسل اور زبان کی بنیاد پر لوگوں کو قتل کرنے والوں کا رستہ روکاجاسکے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ بی این پی نے ہمیشہ قومی تحریک کے لئے اپنی پوری زندگی جدوجہد کرنے والے رہنماؤں کی قربانیوں کی قدر کی نگاہ سے دیکھا اور ان کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے جدوجہد میں مصروف عمل ہے ۔
کیونکہ ان رہنماؤں کی جدوجہد ، قربانیوں کی بدولت آج پارٹی کی عوامی پذیرائی تائید وحمایت میں اضافہ ہو رہا ہے جنہوں نے قربانیوں، عقوبت خانوں میں محکوم اقوام کے حقوق کے لئے جدوجہد کر کے اذیتیں برداشت کیں اور اپنے اصولی موقف اور قومی جدوجہد کی خاطر ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے جنہیں یہاں کے عوام کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کرینگے ۔
مقررین کا کہنا تھا کہ پارٹی کسی بھی صورت میں اپنے شہداء اور ان اکابرین وکارکنوں کی جدوجہد کو فراموش نہیں کر سکتی اور نہ ان کی کٹھن راہوں پر چلنے والی سیاست ، نظریات ،اقدار وسوچ کسی بھی صورت میں چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔
ان کی سچائی پر مبنی جدوجہد اور نظریات کے نتیجے میں آج محکوم اقوام اور بلوچستان کی قومی تحریک کی خاطر یہاں کے عوام بی این پی کے پلیٹ فارم کو اپنے حقوق کے لئے محفوظ سمجھتے ہوئے پارٹی کی سیاست پر مکمل طور پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں ۔
مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی حکومت میں آکر صوبے میں قیام امن کو یقینی بناتے ہوئے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں وہ اصلاحات کریگی جس سے ہماری آئندہ نسل بھی مستفید ہو۔
صوبے میں آباد اقوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے دن رات کام کرینگے ۔ تعزیتی ریفرنس میں بلوچستان نیشنل پارٹی، بی ایس او ، پی ایس ایف، اے این پی ، ایچ ڈی پی اور بی این پی عوامی کے رہنماؤں سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے پارٹی عہدار اور کارکنوں نے شرکت کی
44 ووٹوں سے حکمرانی کی روایت ڈالنے والے پہلے شورش زدہ آواران میں کھلی کچہری لگائیں ،بی این پی
![]()
وقتِ اشاعت : March 1 – 2018