|

وقتِ اشاعت :   March 13 – 2018

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کوئٹہ میں امن وامان کی ابتر صورتحال پر چیف جسٹس آف پاکستان سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز اور ہزارہ برادری پر تواتر سے حملوں کو صوبائی حکومت اور سیکورٹی اداروں کیلئے لمحہ فکریہ قرار دیا ہے ۔

کوئٹہ پریس کلب کے باہر پارٹی کے رہنماء نذیر بلوچ کے گھر پرچھاپہ اور جھوٹے مقدمات کیخلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ مظاہرین نے مطالبات کے حق میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھار کھے تھے جن پر مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے ۔


مظاہرہ کے شرکاء سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ، مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ، ضلعی صدر اختر حسین لانگو،غلام نبی مری، سید ناصر علی ہزارہ ودیگر خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ڈی پی او پنجگور نے سیاسی وابستگی کی بنیاد پر پارٹی رہنماء کے گھر پر چھاپہ مارکر چادر وچاردیواری کے تقدس کو پامال کیا ہے ۔

پولیس گردی سے بی این پی کے کارکن کسی بھی صورت مرعوب نہیں ہونگے مرکزی ڈپٹی سکریٹری میر نذیر بلوچ کے گھر پر چھاپہ گزشتہ ایک دہائی سے زاہد پر محیط پارٹی کیخلاف جاری انتقامی کاروائیوں کا حصہ ہے ۔ 

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پولیس ریاست کا ایک ادارہ ہے جس کے زمہ داری عوام کے مال وجان کا تحفظ یقینی بنانا ہے لیکن پنجگور پولیس اپنی زمہ داریوں سے منحرف ہوکر سیاسی جماعت کی تابیداری میں مصروف ہے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مشرف کی طویل آمریت کا مقابلہ اور قیادت سمیت 80 سے زائد کارکنوں کی شہادت نے بلوچستان کے قومی سوال کی جدوجہد کو تقویت بخشی ہے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ دن دیہاڑے کوئٹہ شہر میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے بے گناہ نوجوانوں اورپولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات مذمت کرتے ہیں۔

ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت آج ایک مرتبہ پر نہتے بے گناہ افراد کی قتل و غارت گری کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جوکہ حکمرانوں کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے بی این پی رہنماؤں کارکنوں کو ظلم و ستم ‘ قتل و غارت گری اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس کے باوجود بھی پارٹی کے دوستوں نے قومی تحریک کی جدوجہد سے راہ فرار اختیار نہیں کی اور نہ خوف و ہراس کا شکار ہو کر بلوچ قومی تحریک کے سیاسی قومی جمہوری جہد سے دستبردار ہوئے پارٹی کے دوستوں کی قربانیوں ‘ ثابت قدمی ‘ مستقل مزاجی کے نتیجے میں آج پارٹی کی عوامی پذیرائی ‘ تائید میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہاں کے پارٹی کے اصولی موقف ‘ جدوجہد ‘ قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے پارٹی کے فیصلے پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مصروف عمل ہیں ۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی مخالفین اور ان کے گماشتوں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایسے بزدلانہ غیر سیاسی غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے پارٹی کے سیاسی نظریاتی کارکنوں کو قومی جہد کی تحریک سے ہرگز دستبردار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

آج پورے صوبے میں پارٹی کے کارکنوں کے قومی تحریک کے خلاف سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے سیسہ پلائی دیوار کی مانند جدوجہد کو آگے بڑھا رہے ہیں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی بلا رنگ و نسل مذہب قومی علاقائیت زبان سے بالاتر ہوکر نفرت کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی۔ 

بھائی چاردگی امن آشتی کی تاریخی روایات کو برقرار رکھنے کی نتیجے میں ہم صوبے کو جاری بحرانوں سے نجات دلاسکتے ہیں ۔رہنماؤں کاپنجگور میں پارٹی رہنماء نذیر بلوچ کے گھر پر چھاپہ اور انتقامی کاروئیوں کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ناروا عمل میں ملوث ڈی پی او کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے ۔