|

وقتِ اشاعت :   March 21 – 2018

کوئٹہ: کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سات سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم کو سزائے موت سنادی۔ مقتولہ سحربتول کے والدین نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ 

استغاثہ کے مطابق کوئٹہ کے علاقے پی ایس پی کالونی کے رہائشی محمدغلام سخی کی سات سالہ بیٹی سحر بتول کو اکتوبر 2014ء میں اس کے ہمسائیے جنید شہزاد نے جنسی زیادتی کے دوران مزاحمت پر گلہ دبا کر قتل کردیا تھا۔ بچی کی لاش بعد ازاں کچرے کے ڈھیرے میں پھینک دی تھی۔ 

مجرم نے خود شور مچا کر لوگوں کو لاش کی موجودگی کی اطلاع دی اور پھر خاندان کے ساتھ ہمدردی ظاہر کرکے جرم چھپانے کیلئے لاش خود ہسپتال منتقل کی تھی۔ پولیس نے مجرم کو 25 نومبر 2014 کو گرفتار کرکے چالان انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ 

منگل کو انسداد دہشتگردی کی عدالت ٹو کے اسپیشل جج غلام صدیق بازئی نے فیصلہ سناتے ہوئے قتل اور کا جرم ثابت ہونے پر جنید شہزاد کو سزائے موت سنادی۔ عدالت نے زنابالجبر کاجرم ثابت ہونے پر ملزم کو 4سال قید کی سزاسنائی جبکہ قتل اور انسداد دہشتگردی کی دفعہ کے تحت جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت اور مقتولہ کے ورثاء لاکھ روپے ادا کرنے کی سزا سنائی۔ عدم ادائیگی کی صورت میں مجرم کو مزید 6ماہ قید بھگتنا ہوگی ۔

سرکار سے کیس کی پیروی اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر تیمور شاہ کاکڑایڈووکیٹ ، مقتولہ کے والدین کی جانب سے کبیر بڑیچ نے کی ۔فیصلہ سناتے وقت بچی کے والدین، رشتہ دار ،مختلف سیاسی و مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے رہنماء بھی عدالت میں موجود تھے۔ 

بچی کے والد محمد غلام سخی اور والدہ نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی بیٹی کو انصاف ملنے پر مطمئن ہیں ۔ہماری بیٹی تو اس دنیا میں نہیں رہی لیکن اسے موت کے بعد انصاف مل گیاہے ۔اس سلسلے میں ساتھ دینے پر ہم میڈیا ،وکلاء اور سول سوسائٹی کے افراد اور سیاسی جماعتوں کے شکر گزارہیں کیونکہ انہوں نے ہماری آواز میں آواز ملائی ۔