|

وقتِ اشاعت :   April 6 – 2018

کوئٹہ: قومی احتساب بیورو نے سیکریٹری خوراک بلوچستان نور احمد پرکانی کوکوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے پلاٹوں کی غیر قانونی تقسیم اور کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کے الزام میں سول سیکریٹریٹ سے گرفتار کرلیا۔

ترجمان نیب کے مطابق موجودہ سیکریٹری خوراک نور احمد پرکانی پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈائریکٹر جنرل کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی حیثیت سے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری ہاؤسنگ اسکیم میں پلاٹس کی بندر بانٹ کر تے ہوئے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا ۔

نیب کی تحقیقات کے مطابق نور احمد پرکانی نے ڈی جی کیو ڈی اے کی حیثیت سے 44 سرکاری پلاٹس کی الاٹمنٹ تنسیخ کرتے ہوئے منظور نظر افراد جن میں متعدد سیکرٹریز، جوڈیشنل مجسٹریٹ شامل تھے کو غیر قانونی طور پر نوازتے ہوئے کروڑوں کی کرپشن کی ۔علاوہ ازیں ملزم نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے 5 اضافی پلاٹس کی الاٹمنٹ بھی کر ڈالی۔

نور احمد پرکانی نے خود کو قانون کی گرفت سے بچانے کیلئے کیو ڈی اے کے ریکارڈ میں غیر قانونی تبدیلیاں بھی کیں۔یاد رہے کہ نور احمد پرکانی کے خلاف نیب کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ایک اور کیس پہلے ہی تحقیقات کی جارہی ہے جس میں ملزم نے ہائیکورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری بھی کرارکھی تھی۔

تاہم ڈی جی کیو ڈی اے کی حیثیت سے اختیارات کے تجاوز اور مبینہ کرپشن کے الزام کے اس کیس میں انہیں وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد جمعرات کی شام کو زرغون روڈ پر واقع سول سیکریٹریٹ میں ان کے دفتر سے چھاپہ مار کر گرفتار کیاگیا۔یاد رہے کہ اس سے قبل مئی2016ء میں اس وقت کے سیکریٹری خزانہ مشتاق احمد رئیسانی کو بھی سول سیکریٹریٹ میں ان کے دفتر سے گرفتار کیا گیا تھا۔