|

وقتِ اشاعت :   April 6 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان کے معاشی ماہرین ،خزانہ اور اقتصادی شعبے پر کام کرنیوالے سرکاری آفیسران نے کہا ہے کہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہورہے۔

ترجیحات کا تعین کرکے اس پر تسلسل کے ساتھ عملدرآمد اورانفرادی منصوبوں کی بجائے عوامی نوعیت کے بڑے اور مؤثرمنصوبوں سے ہی بلوچستان میں ترقی کے اہداف کئے جاسکتے ہیں آمدن کے ذرائع اور پیداواری شعبے پر زیادہ سے زیادہ رقم خرچ کرکے صوبے سے بے روزگاری ختم کی جاسکتی ہے۔ا

ن خیالات کااظہار ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقی و منصوبہ بندی بلوچستان نصیب اللہ خان بازئی، سیکریٹری ترقی و منصوبہ بندی اسفند یار خان، ایڈیشنل سیکریٹری خزانہ شاہ زیب ، محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کے چیف فارن ایڈ مجیب الرحمان ،گوررنس اینڈ پالیسی پروجیکٹ کے کوآرڈینیٹر سابق سیکریٹری خزانہ بلوچستان معاشی و اقتصادی امور کے ماہر محفوظ علی خان اور دیگر نے محکمہ خزانہ اورگورنس اینڈ پالیسی پروجیکٹ کے اشتراک سے منعقدہ سٹیزن پری بجٹ کنسلٹیشن 2018-19 سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقی و منصوبہ بندی نصیب اللہ بازئی کا کہنا تھاکہ بلوچستان میں ترقی و منصوبہ بندی کا شعبہ سب سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ بڑا رقبہ، منتشر آبادی ، وسائل کی کمی جیسے بڑے مسائل کی وجہ سے ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات میں تبدیلی نہیں آئی۔

محکمہ ترقی و منصوبہ بندی بناکر اس میں ماہرین بٹھائے گئے ہیں اور بھاری رقوم خرچ کرکے قومی اور عالمی سطح کے ماہرین کی مدد سے اسٹیڈیز کرائی گئی ہیں لیکن بجٹ بناتے وقت ان اسٹیڈیز اورپلاننگ کمیشن کی گائیڈ لائنز کو بھی خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کے ماہرین کا گلہ ہے کہ ان کا کردار بجٹ میں صرف عملدرآمد تک رہ گیا ہے ان سے کوئی پیشہ ورانہ مشاورت اور رائے نہیں لی جاتی۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ کا بڑا حصہ غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم ہر سال اسی طرح بڑھتا رہا تو شاید اگلے چند سالوں میں ہمیں ترقیاتی منصوبوں کیلئے موجودہ بجٹ جتنی رقم بھی دستیاب نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے تین سال میں مکمل ہونے چاہئیں۔

دس سے پندرہ سالہ منصوبے پر پیسہ لگانا بجٹ کا ضیاع ہے ۔ترقیاتی بجٹ میں بہترین طریقہ کار یہ ہے کہ ستر فیصد رقم جاری منصوبوں اور تیس فیصد رقم نئے منصوبے کیلئے مختص کی جائے اس لئے ہمیں اپنی ترجیحات کو بدلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ جاری منصوبوں کو مکمل کرنے کیلئے 180ارب روپے درکار ہیں اور ہر سال اس مد میں درکار بجٹ کا حجم بڑھتا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خدشہ ہے کہ اس بار وفاقی بجٹ میں بلوچستان کو کوئی نیا منصوبہ نہیں ملے گا۔نصیب اللہ بازئی نے بتایا کہ بلوچستان کا سالانہ ترقیاتی بجٹ 2600سے زائد منصوبوں پر مشتمل ہے جس میں پندرہ سو جاری اور گیارہ سو نئے منصوبے شامل ہیں۔

آٹھ مہینے سے ترقیاتی بجٹ عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کی وجہ سے التواء کا شکار رہا ہ۔ اب عدالت نے ہماری جانب سے ضابطوں پر عملدرآمد کی یقین دہانی کے بعد کچھ چھوٹ دے دی ہے ۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے کہا کہ تیس سالہ ملازمین میں انہیں بجٹ بنانے اور اس پر عملدرآمد کرانے میں کبھی اتنی مشکلات پیش نہیں آئیں جتنی اس وقت درپیش ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ بڑے منصوبوں کیلئے فنڈز مختص کئے جائیں ۔

پیداواری ، سماجی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں کو ترجیح دی جائے اور انفرادی منصوبوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ ہمیں شعبہ جاتی ترجیحات کی طرف جانا ہوگا۔ پیداواری شعبے پر توجہ دیئے بغیر صوبے سے بیر وزگاری ختم نہیں کی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کی مجبوریاں اپنی جگہ ہیں ۔ بلوچستان کی بہتری کیلئے ضروری ہے کہ انفرادی منصوبوں کی بجائے بڑے اور مؤثر منصوبے شروع کئے جانے چاہئیں۔ 60سے70ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ڈھائی ہزار سے زائد منصوبوں پر خرچ کرنا مشکل ہے۔

70فیصد منصوبے بہت چھوٹے ہوتے ہیں جن کا وہ اثر سامنے نہیں آتا ۔اکیلے بیٹھنے کی بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ملکر اجتماعی کوششوں اور باہمی مشاورت سے بہتری لانا ہوگی۔ اس موقع پر سیکریٹری خزانہ بلوچستان قمر مسعود نے کہا کہ بجٹ میں سب سے اہم شعبہ ٹیکس کا ہے جس پر توجہ نہیں دی گئی ۔ٹیکس سے متعلق سرمایہ داروں، تاجروں اور عوام کے تحفظات دور کرکے ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانا چاہیے ۔

بلوچستان میں ٹیکس کے ذریعے آمدن بارہ ارب روپے سے زیادہ ہے اس لئے نئے بجٹ میں بھی نو ارب روپے سے زائد کا خسارہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ شعبوں کے ماہرین ، اسٹیک ہولڈرز ار اور عوام کی رہنمائی کے بغیر اچھا بجٹ نہیں بنایا جاسکتا ۔ زرعی آمدنی پر ٹیکس سمیت بہت سے ٹیکسز عوام پر بوجھ ہیں۔ ٹیکس کو ڈیل کرنے والے محکموں سے باہمی مشاورت کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اسفند یار خان نے کہا کہ بجٹ کا بجٹ عوام کو خدمات فراہم کرنا ہوتی ہیں ۔ ہمارے صوبے کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ غیر ترقیاتی بجٹ پر خرچ ہوتا ہے۔

دیکھا جائے کہ اس بجٹ سے عوام کو وہ فائدہ مل رہا ہے جو ملنا چاہیے۔ بلوچستان میں ساٹھ ہزار سے زائد سرکاری اساتذہ ہیں ۔ محکمہ تعلیم کا ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ ملاکر ساٹھ ارب روپے سے زائد بنتا ہے ۔ صوبے کے سرکاری ،غیر سرکاری اسکولوں اورمدرسوں میں پینتیس لاکھ کے لگ بھگ بچے پڑھ ہیں اور تیرہ لاکھ بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔

کیا ہمارا ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہورہا ہے ۔کیا بجٹ کے استعمال کے موجودہ طریقہ کار سے ہمیں متعلقہ نتائج مل رہے ہیں ۔ ہمارا بجٹ اس ہدف کے حصول پر خرچ ہی نہیں ہوتا کہ ہم ان بچوں کو اسکولوں میں داخل کرائیں گے۔ہم مطلوبہ نتائج حاصل ہی نہیں کرپارہے ، معیار کی بات تو بعد میں آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی بجٹ کو بنانے کا موجودہ طریقہ کار ہی درست نہیں۔ ہمارے منصوبے ہی درست نہیں بناتے اس لئے اہداف کے حصول کی توقع رکھی ہی نہیں جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ پینتالیس مرحلوں سے گزرنے کے بعد خرچ ہوتا ہے۔ ہمیں احتساب اورنگرانی کے عمل کو مؤثر بناتے ہوئے بجٹ استعمال کرنے کے طریقہ کار کو آسان بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ انہی پیچیدگیوں کے سبب ہم رواں سال کے ترقیاتی بجٹ صرف تیس فیصد ہی خرچ کرسکے ہیں ۔یہاں آفیسران کی حیثیت صرف کلرک کی سی رہ گئی ہے ۔اس نظام اور مائنڈ سیٹ سے نکلے بغیر ہم بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ ستر سالوں بعد اب ہم پبلک فنانس مینجمنٹ کی بات کررہے ہیں ۔ ہم پی ایس ڈی پی کو آٹو میشن پر لے جارہے ہیں ۔ صوبے کا آمدن بڑھانے کیلئے استدار کار اور دیگر بہت سے مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ عوام کی قسمت بدلنے کیلئے صوبے کی ترجیحات طے کرنا ہوگی۔

بلوچستان میں معدنیات سب سے اہم شعبہ ہے لیکن اس کیلئے صرف پندرہ ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ غیر پیداواری شعبے پر زیادہ اخراجات کئے جارہے ہیں ۔ اب ہمیں پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ جیسے طریقہ کار کی طرف جانا ہوگا۔ ہمیں سرمایہ کاروں کو راغب کرکے بڑے منصوبے شروع کرنے ہوں گے۔

بلوچستان میں ایک کی تعلیم پر بچے پر لگ بھگ پانچ ہزار روپے خرچ ہورہے ہیں ۔ ترقیاتی بجٹ کی مد میں ہونیوالے اخراجات اس کے علاوہ ہیں لیکن اس کے باوجود سرکاری اسکولوں سے نکلنے والے بچوں کی صلاحیت، استعداد کار وہ نہیں ہوتی۔

اتنی بھاری رقم خرچ کرنے کے باوجود ہمیں مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے اس لئے ہمیں پنجاب کی طرز پر اسکولوں کو نجی سرمایہ کاروں کی مدد سے چلانے کا تجربہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صحت کا شعبہ ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس کو فائدہ پہنچانے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا بلکہ یہ شعبہ عوام اور مریضوں کی فلاح و بہبود اور علاج کیلئے بنایا گیا ہے لیکن ہماری پوری حکومتی مشنری اس مقصد کیلئے استعمال ہی نہیں ہورہی۔

انہوں نے کہا کہ اس بار ہم نے سماجی، پیداواری اور انفراسٹرکچر کے شعبوں کے ترقیاتی بجٹ کیلئے تین الگ الگ کمیٹیاں بنائی ہیں۔ہم نے محکموں سے ترقیاتی بجٹ میں منصوبے تجویز کرنے کیلئے لکھا لیکن محکمہ تعلیم کے سوا کسی نے منصوبے تجویز نہیں کئے۔ ہمیں راتوں رات ترقیاتی بجٹ میں منصوبے شامل کرنے کی روایت کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔ انفرادی منصوبوں کی حوصلہ شکنی کرکے بد عنوانی کے مواقع کم کئے جاسکتے ہیں۔

پروکیورمنٹ کمیٹیوں کے اجلاسوں کی کیمرے یا سی سی ٹی وی کیمرے سے ریکارڈنگ کرکے اور اجلاس کے مٹنس فوری طور پر آن لائن اپلوڈ کرکے بہت سے مسائل کم کئے جاسکتے ہیں۔

محکمہ ترقی و منصوبہ بندی میں چیف آف فارن ایڈ مجیب الرحمان نے ترقیاتی بجٹ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ترجیحات کے تعین اوراس پر تسلسل کے ساتھ عملدرآمد کے بغیر ترقی کے اہداف حاصل نہیں کئے جاسکتے۔

ماضی میں کبھی انفراسٹرکچر ، پانی، کبھی تعلیم اورکبھی صحت کے شعبے کو ترجیح دی گئی اور کبھی بہت کم توجہ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں پیداواری شعبے پر30فیصد جبکہ سوشل اور انسفراسٹرکچر کے شعبے پر35,35فیصد ترقیاتی بجٹ خرچ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

امید ہے کہ رواں مالی سال کا ترقیاتی بجٹ 100ارب روپے کے لگ بھگ ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کی وجہ سے صنعت و تجارت میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہم محکمہ پی اینڈ ڈی میں باقاعدہ سی پیک سینٹر بنارہا ہے جس میں تمام شعبوں کے ماہرین شامل ہوں گے ۔

انہوں نے کہا کہ مختلف عالمی اداروں کی مدد سے بلوچستان میں سیاحت ، خواتین کی ترقی اور انہیں آسان اقساط پر قرضوں کی فراہمی کے منصوبے جلد شروع کئے جارہے ہیں جس کے تحت پچیس ہزار روپے سے لیکر ڈھائی کروڑ روپے تک قرض دیا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ 2008ء تک بلوچستان کا پورا ترقیاتی بجٹ وزیراعلیٰ پنجاب کے صوابدیدی فنڈ سے کم تھا ۔ این ایف سی ایوارڈ ملنے کے بعد سے صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ صوبے میں انفراسٹرکچرکھڑا کرنے کیلئے وقت لگے گا۔

سابق سیکریٹری خزانہ محفوظ علی خان نے کہا کہ بلوچستان نیشنل جی ڈی پی میں سات فیصد حصہ ڈال رہا ہے لیکن اس میں بلوچستان کوصرف صفر اشاریہ پانچ فیصد واپس مل رہا ہے۔اٹھارہویں ترمیم کے بعد مقامی نمائندوں کو اختیارات کی منتقل نہیں کئے گئے۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے بغیر بہت سے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔