کوئٹہ: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کوئٹہ میں جاری ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور پیرا میڈیکس کی ہڑتال ختم کرواتے ہوئے صوبائی حکومت کو چار روز میں جائز مطالبات پر عمل درآمد کا حکم دے دیا ۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سول ہسپتال کوئٹہ کا اچانک دورہ کیا ۔اس موقع پر وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو ،صوبائی وزیر صحت میر ماجد ابڑو ، چیف سیکریٹری اورنگزیب حق، سیکریٹری صحت صالح ناصر سمیت دیگر حکام بھی انکے ہمراہ تھے ۔بلوچستان ہائی کورٹ کے ججز اور سینئر وکلاء بھی موجود تھے۔
چیف جسٹس نے سول ہسپتال ٹراما سینٹر سمیت دیگر شعبوں کا دورہ کیا اور ہسپتال کے وارڈزمیں گندگی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کئے ۔چیف جسٹس نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے سول ہسپتال میں لگائے گئے احتجاجی کیمپ کا دورہ بھی کیا ۔
انہوں نے ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس کو اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت یقین دہانی اور نوٹیفکیشن جاری ہونے کے باوجود ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کررہے ۔ چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ کو کہا کہ مطالبات ماننے کے باوجود پھر کیوں آپ عمل نہیں کررہے ۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے چیف جسٹس کو بتایا کہ صوبائی وزیر صحت عبدالماجد ابڑواور صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کیمپ آکر ڈاکٹرز کے مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس پر حکومت کام کررہی ہے۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر صوبائی حکومت کو ڈاکٹرز کے جائز مطالبات پر چار دنوں کے اندر عملدرآمد کے احکامات جاری کئے ۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے ڈاکٹروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جائز مطالبات کو تسلیم اور ناجائز مطالبات کو رد کرتا ہوں۔ آپ کو جائز حقوق ضرور ملیں گے۔ اب ڈاکٹرز فوری طور پر ہڑتال ختم کرکے جاکر وارڈز میں کام شروع کردیں۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس کی یقین دہانی پر ایک ماہ سے جاری احتجاج ختم کردیا۔ اس موقع پر پیرا میڈیکس اور ینگ ڈاکٹرز نے چیف جسٹس کے حق میں نعرے لگائے۔
دریں اثناء ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر ڈاکٹر یاسر خوستی نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان میا ں ثاقب نثار کے حکم پر ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف نے ہڑتال ختم کر دیا اگر4 دن کے اندر ہمارے مطالبات کے نوٹیفکیشن جاری نہ ہوئے تو ہم دوبارہ احتجاج کرینگے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول ہسپتال میں احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا ۔
اس موقع پر پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر فرید سمالانی اور پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر فضل الرحمان کاکڑ بھی موجود تھے ڈاکٹر یاسر خوستی نے کہا ہے کہ ایک ماہ سے ہم احتجاج پر تھے اور ہسپتالوں میں سہولیات نہ ہونے کی بناء پر ڈاکٹروں نے ہڑتال شروع کی تھی پرامن احتجاج کے ذریعے حکومت سے جائز مطالبات حل کرنے کی کوشش کی مگر حکومت اور بیورو کریسی نے مسائل حل کرنے کی بجائے مزید پیچیدہ بنا دیا اور یہ مطالبات باقی تمام صوبوں میں ایک سال قبل تسلیم ہو چکے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی وزراء اور اپوزیشن لیڈر نے ہمارے احتجاجی کیمپ میں آکر یقین دہانی کرائی کہ ان کے جائز مطالبات کوتسلیم کیا جائیگا مگر ایسا نہیں کیا گیا اور گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے سول ہسپتال کا دورہ کیا ۔
ہمارے احتجاجی کیمپ میں آکر ہمارے جائز مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہائی کرائی اور حکومت بلوچستان کو حکم دیا کہ چارروزکے اندر ان کے مطالبات تسلیم کئے جائے اور ہم چیف جسٹس آف پاکستان کے مشکور ہے کہ انہوں نے آکر ہمارے جائز مطالبات کی تائید کی اور چیف جسٹس آف پاکستان نے سول ہسپتال کوئٹہ کے حالت زار پر براہمی کا اظہار کیا ۔
ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے سرکاری ہسپتالوں میں تمام بنیادی ضروریات ہو اور غریب عوام کو ریلیف مل سکے چیف جسٹس کے حکم کے بعد ہم ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر رہے ہیں اور آج سے بلوچستان بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز کھلیں گے اگر چار دن کے اندر مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو ہم دوبارہ احتجاج پر جائینگے۔
چیف جسٹس کی یقین دہانی پر ینگ ڈاکٹرز کا ہڑتال ختم ،نوٹیفکیشن نہ ہو اتو دوبارہ احتجاج کرینگے، ینگ ڈاکٹرز
![]()
وقتِ اشاعت : April 9 – 2018