|

وقتِ اشاعت :   April 13 – 2018

کوئٹہ : بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن اور گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے بی اے ، بی ایس سی اور ایف اے ، ایف ایس سی امتحانات کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے جامعہ بلوچستان اوربلوچستان بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سے امتحانی شیڈول کو ازسر نو جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

گزشتہ روز بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچرر ز ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر آغا زاہد اور گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر حبیب الرحمان مردانزئی کا کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 14اپریل سے صوبے میں بی اے /بی ایس سی جبکہ24اپریل سے ایف اے /ایف ایس سی کے امتحانات شروع ہورے ہیں ۔

مگر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی جامعہ بلوچستان اوربلوچستان بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے مابین باہمی تعاون کا بدترین فقدان دیکھنے میں آیا ہے دونوں اہم اداروں نے نہ تو آپس میں کوئی کورآڈینیشن کی اور نہ ہی ہم پروفیسرزو سکول اساتذہ اورنہ ہی امتحانی عملے کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی بلکہ اس کی بجائے انتہائی عجلت میں ایک ایسا امتحانی شیڈول جاری کیا ہے جس سے صرف پروفیسربرادری ہی نہیں بلکہ سکول ٹیچرز اور خود طلباء بھی مشکل میں پڑ گئے ہیں۔

کیونکہ لگاتار پرچے رکھے گئے ہیں اور طلباء کو وقفہ یا پرچے کی تیاری کے لئے ایک دن کی مہلت بھی نہیں دی گئی حتیٰ کہ اتوار کے روز اور یکم مئی کو بھی پرچے رکھے گئے ہیں جو بلوچستان سمیت ملک بھر اور پوری دنیا میں مزدوروں سے یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس دن پوری دنیا میں عام تعطیل ہوتی ہے ۔

تاہم اس حوالے سے تاحال ہمارے اصولی ، قانونی اور اخلاقی موقف کو تسلیم نہیں کیا گیا لہٰذا بی پی ایل اے اور گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان بی اے /بی ایس سی اور ایف اے/ ایف ایس سی کے امتحانات کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ زور زبردستی کرنے اور متبادل ذرائع سے امتحان لینے کی کوشش کی گئی تو ذمہ داری جامعہ بلوچستا ن اوربلوچستان بورڈ انتظامیہ پر عائد ہوگی ۔