|

وقتِ اشاعت :   April 16 – 2018

کو ئٹہ : بلوچستان کی سیاسی جماعتوں صوبائی وزراء اراکین اسمبلی نے عیسیٰ نگری میں مسیحی برادری کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کر تے ہوئے واقعہ میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال، عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر زمرک خان اچکزئی، ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق ہزار، صوبائی وزراء میر عبدالکریم نو شیروانی، میر ضیاء اللہ لانگو، منظور احمد کاکڑ، طاہر محمود ، میر ماجد ابڑو اراکین اسمبلی عبیداللہ بابت، نصر اللہ زیرے، محمد خان لہڑی ،بلوچستان نیشنل پارٹی ، پشتونخوامیپ ،پیپلز پارٹی ،تحریک انصاف، بلوچستان متحدہ محاذ کے سربراہ سراج خان رئیسانی نے اپنے تعزیتی بیانات میں عیسیٰ نگری میں مسیح برادری کے افراد پر مسلح افراد کی فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عیسیٰ نگری کا واقعہ دلخراش ہے آئے روز ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں ۔

جو کسی بھی صورت درست اقدام نہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار واقعات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دے ملک دشمن عناصر اس طرح کی گھناؤنی کارروائیاں کر کے ملک کو غیر مستحکم کر کے اپنے ناپاک عزائم میں کسی صورت بھی کامیاب نہیں ہوسکے ۔

سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ایسے واقعات کا رونما ہونا حکمرانوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے امن و امان کی مد میں اربوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ ، قتل و گری ، امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال آئے روز خراب ہوتی جا رہی ہے ۔

بی این پی اس مشکل گھڑی میں مسیحی برادری کے ساتھ کھڑی ہے پارٹی مختلف فورمز کے اقلیتی برادری کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور قتل وغارت گری پر خاموش نہیں رہے گی حکومت وقت امن و امان کی بحال کرتے ہوئے عوام کے جان کو مال کا تحفظ یقینی بنائے تاکہ عوام بلاخوف وخطر اپنی زندگی بسر کر سکیں ۔

صوبائی وزیر صحت میر عبدالماجد ابڑو نے عیسیٰ نگری میں فائرنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو ہسپتال میں بہترطبی سہولیات فراہم کرنے کی سختی سے ہدایت کی ہے میر عبدالماجد ابڑو نے کہا کہ ملک دشمن عناصر نے کوئٹہ کے نواحی علاقے عیسیٰ نگری میں نہتے شہریوں پر فائرنگ کر کے 2 شہریوں کو ہلاک اور 2 کو زخمی کیا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ فائرنگ کے واقعے میں ملوث ملزمان کو قانون کے شکنجے میں جکڑ کر قرار واقعی سزا دے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں زخمیوں کو ہسپتال میں بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے تاکہ زخمی جلد صحتیاب ہوسکے۔