|

وقتِ اشاعت :   April 17 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس کامران ملاخیل نے ریمارکس دیئے ہیں کہ صوبائی حکومت نے عدالت عالیہ کے پندرہ مارچ کے فیصلے کی غلط تشریح کی،حکومت اپنی کریڈیبلٹی کھوچکی ہے ،سمجھ نہیں آتا کس بات پر بھروسہ کریں اور کس بات پر نہیں۔

بلوچستان حکومت پابند ہے کہ ہر منصوبے میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے اور پلاننگ کمیشن کے رولز کی سختی سے پابندی کریں ، صوابیدیدی فنڈز میں سے بادشاہوں کی طرح اعلانات کئے جارہے ہیں بتایا جائے یہ اعلانات کس قانون کے تحت کئے جارہے ہیں۔بتایا جائے وزیراعلیٰ بلوچستان نے اتنے مشیر کس قانون کے تحت لگائے۔

صوابیدیدی فنڈز کی منظوری سے متعلق کابینہ کے اجلاس کے منٹس کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے عدالت نے نئے ترقیاتی بجٹ کی تیاری سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔ جبکہ زمینوں کو لیول کرنے کیلئے سرکاری خرچ پر بلڈزور گھنٹے دینے سے متعلق رپورٹ بھی مانگ لی۔

یہ ریمارکس بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس جناب جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس جناب جسٹس محمدکامران ملاخیل نے ترقیاتی بجٹ سے متعلق متفرق درخواستوں کی سماعت کے دوران دیئے۔ درخواست محمد عالم مندوخیل وار دیگر نے دائر کر رکھی تھی جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں قواعد و ضوابط اور عدالت عظمیٰ کے عبدالرحیم زیارتوال اور راجہ پرویز اشرف فیصلے کی پاسداری نہیں کی جارہی ۔ پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے رولز کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

گزشتہ سماعت پر عدالت عالیہ نے حکم دیا تھا کہ ترقیاتی بجٹ میں انفرادی منصوبے نکالے جائیں اور اجتماعی مفاد کے منصوبوں اورعدالت عظمیٰ کے فیصلے ، پلاننگ کمیشن کے رولز پر پورا اترنے والے منصوبوں کو شامل کیا جائے۔پیر کو سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شہک بلوچ، محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کے لاء آفیسر، درخواست گزا راور ان کے وکلاء پیش ہوئے۔ درخواست گزار نے کہا کہ سپیشل ڈویلپمنٹ انیشیوٹیو کی کابینہ سے ایک ارب روپے کے منصوبوں کی منظورلی لی گئی اور اب اس کی لاگت پانچ ارب تک کیسے پہنچ گئی ۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ زمین کو لیول کرنے کیلئے بلڈوزر گھنٹے کس قانون کے تحت دیئے جاتے ہیں۔ غیر منظور شدہ اسکیموں پر کس قانون کے تحت کام کیا جارہا ہے۔ بلڈزور گھنٹے دینے سے قبل کیا کوئی سروے کیا جاتا ہے کیا کوئی تخمینہ لاگت لگایا جاتا ہے ۔ اوستہ محمد کے کیٹل فارم کی زمین لیول کرنے سے متعلق ایک کیس کا حوالہ د یتے ہوئے جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بلڈزور گھنٹے دینے کا کیا طریقہ کار ہے ۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شہک بلوچ اورمحکمہ زراعت کے ڈپٹی ڈائریکٹر الطاف حسین نے بتایا کہ اوستہ محمد کیٹل فارم کی سیلاب سے متاثرہ 700ایکڑ سرکاری اراضی کو لیول کرنے کیلئے حکومت ایک کروڑ20لاکھ روپے مختص کئے۔ یہ زمین زمینداروں کو دی گئی ہے جو اپنی آمدنی میں سے نصف حکومت کو دیتے ہیں تاہم سیلاب کی وجہ سے پیداوار نصف ہوگئی تھی ۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بلڈزور گھنٹے کی تقسیم میں پسند و پسند کی بنیاد پر کام کیا جاتا ہے۔

ایک تو لوگ سرکاری زمین پر قبضہ کئے ہوئے بیٹھے ہیں اور اوپر سرکاری خرچ پر ان کیلئے مزید اخراجات بھی کئے جارہے ہیں۔ بتایا جائے ان زمینوں پر کام کرنیوالے بزگر اصل میں کس کے زیر اثر ہیں۔ عدالت نے محکمہ زراعت کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ سیشن جج کو ساتھ لے جائے وہ جاکر موقع کا دورہ کرکے ہمیں رپورٹ دے گا۔ حکومت اپنی کریڈیبلٹی کھوچکی ہے سمجھ نہیں آتا کہ کس بات کا بھروسہ کریں اور کس پر نہیں۔ اتنا عدم اعتماد ہے۔ محکمہ زراعت آئندہ سماعت پر ان زمینوں کی پانچ سال کی آمدنی کی رپورٹ بھی پیش کریں۔ 

نئی پی ایس ڈی پی سے متعلق تفصیلات معلوم کرتے ہوئے جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نئی پی ایس ڈی پی سے متعلق کیا کررہی ہے ۔ کیا کوئی نیا منصوبہ لے کر آرہی ہے جس سے بڑے بڑے مسائل حل ہوجائیں یا پھر وہی پرانی باتیں شامل ہوں گی۔ محکمہ پی اینڈ ڈی کے لاء آفیسر نے بتایا کہ حکومت پلاننگ کمیشن کی ہدایات کی روشنی میں نیا بجٹ بنارہی ہے اور ترقیاتی منصوبے شامل کئے جارہے ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کل خیبر پشتونخوا سے ایک اچھی خبر آئی کہ انہوں نے80فیصد رقم جاری اسکیموں کیلئے مختص کی ہے۔

درخواست گزار عالم مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کے جاری منصوبوں کی مجموعی لاگت350ارب روپے بنتی ہے ۔ ایک کمیٹی بنائی جائے کہ وہ جاری منصوبوں کی سکروٹنی کرکے اس کیلئے ضروری فنڈز کے اجراء کو یقینی بنائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹیو(ایس ڈی آئی) یا صوابیدیدی فنڈز کی آڑ میں معلوم نہیں کیا کیا ہورہا ہے۔ وہ ایسے اعلانات کررہے ہیں جیسے بادشاہ بنے ہوئے ہیں۔ 

یہ بے شمار مشیر لگاتے ہیں یہ کس قانون کے تحت لگائے ۔کیا ٹیکنیکل لوگ لئے ہیں؟۔ یہاں تو ہم نے یہ بھی دیکھا کہ انسداد دہشتگردی عدالت سے مفرور شخص کو بھی مشیر بنایا گیا۔ اس موقع پر ایک وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی تعداد36ہیں جبکہ حکومت کرنے کیلئے کم از کم 33ارکان ہونا ضروری ہے معلوم نہیں بلوچستان حکومت کس طرح کام کررہی ہے انہیں اعتماد کو ووٹ لینا چاہیے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ بلوچستان حکومت نے 15مارچ کے فیصلے کی غلط تشریح کی ۔

ہم نے واضح حکم دیا تھا ہر منصوبے کو پلاننگ کمیشن کے رولز اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق بجٹ میں شامل کیا جائے ۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شہک بلوچ نے کہا کہ حکومت عدالتی احکامات پر سختی سے عمل پیرا ہے اور کوئی خلاف ورزی نہیں کی جارہی۔ س موقع پر عدالت نے حکم پرعملدرآمد سے متعلق پیش رفت اور صوابیدیدی فنڈز کی منظوری سے متعلق کابینہ اجلاس کے منٹس طلب کرتے ہوئے حکم دیاکہ اگلی سماعت پر نئی پی ایس ڈی پی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ 

عدالت عالیہ ایک بار پھر واضح ہدایت دیتی ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے اورپلاننگ کمیشن کے رولز کی سختی سے پاسداری کی جائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ حکومت نے قیصر بنگالی کو بھاری تنخواہ پر مشیر رکھا تھا انہوں نے تجاویز دی تھی کہ کس طرح اخراجات اور آمدنی کا توازن برقرار رکھتے ہوئے صوبے کے منصوبوں کو ترتیب دیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے محکمانہ سب کمیٹی کی قانونی حیثیت سے متعلق بھی جواب طلب کیا ۔درخواست کی سماعت23اپریل تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔