|

وقتِ اشاعت :   April 17 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ نے سرکاری محکموں میں بھرتیوں پر پابندی کے خلاف وزیرداخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی آئینی درخواست کے سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ساڑھے چارسال تک بھرتیاں کیوں نہ کی گئیں۔ 

انتخابات سے چند ماہ قبل بھرتیاں کرکے کیاووٹ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جارہی؟۔ پارلیمنٹرین اپنے اصل کام قانون سازی کی بجائے نالیاں بنانے اور بھرتیوں میں لگ گئے ۔ سیاستدان الیکشن سے متعلق معاملات خود کیوں حل نہیں کرتے اور عدالتوں میں لے آتے ہیں اور پھر کہا جاتا ہے کہ عدالت مداخلت کرتی ہے۔پیر کو صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کی آئینی درخواست کی سماعت بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد کامران ملاخیل پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ 

سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل میر شہک بلوچ، درخواست گزار کے وکیل کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ اوروفاق کا نمائندہ پیش ہوا۔ سرفراز بگٹی کے وکیل کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ عوام کی جانب سے حکومت کو پانچ سال کا مینڈیٹ دیا گیا تھا اور اس کی مدت31مئی کو پوری ہوگی۔ مدت پورا ہونے سے قبل ہی سرکاری محکموں میں بھرتیوں اور ترقیاتی منصوبوں پر پابندی لگادی گئی ہے۔ 

ترقیاتی منصوبے اور بھرتیاں حکومت کا مینڈیٹ ہے جسے 31مئی تک نہیں چھینا جا سکتا ۔ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انتخابات کے الیکشن سے قبل ہی بھرتیوں پر پابندی لگائی اجائے۔سمجھ نہیں آتی یہ پابندی کس قانون کے تحت لگائی گئی ہے کیونکہ آئین کے آرٹیکل 218،219،220اور الیکشن ایکٹ2017ء میں الیکشن کمیشن کو ایسا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ الیکشن ایکٹ کے تحت صدر مملکت کی جانب سے الیکشن پروگرامز کے اعلان کے بعد الیکشن کمیشن صرف تقرر و تبادلوں پر پابندی عائد کرسکتا ہے۔اس میں بھی ترقیاتی منصوبوں اور بھرتیوں کا ذکر نہیں۔ 

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ غیر منظور شدہ اسکیموں پر عملدرآمد چاہتے ہیں ؟۔کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان کے مؤکل کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ۔ الیکشن کمیشن نے تو الزام لگایا ہے کہ الیکشن سے قبل دھاندلی (پری پول رگنگ )روکنے کیلئے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ نتیجہ کیسے اخذ کرلیا ۔

الیکشن کمیشن کے ممبران کو کیا رات خواب میں آیا کہ انہوں نے یہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آپ الیکشن کے معاملات خود کیوں حل نہیں کرتے اور ہمارے پاس آجاتے ہیں ۔ پھر کیوں کہتے ہیں کہ عدالت مداخلت کرتی ہے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان شہک بلوچ نے کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مختلف محکموں میں خالی آسامیوں پر پندرہ ہزار سے زائد لوگوں کے انٹرویو کئے گئے ۔

الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے بعد لوگ مایوس ہوگئے ہیں ۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پانچ سال تک حکومت کیا کرتی رہی ، اب آخری مہینوں میں بھرتیاں ووٹ حاصل کرنے کیلئے کی جائیں گی۔ الیکشن سے چند دنوں قبل اگر امیدوار کسی دعوت کریں گے تو پھر ووٹ استعمال کرتے وقت وہ امیدوار کا کھایا ہوا نمک حلال کرے گا۔الیکشن کمیشن نے کوئی الزام نہیں لگایا بلکہ عوام کے خدشات کا ذکر کیا ہے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ٹی وی پر ایسی باتیں چل رہی تھیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ یہ الجھن ٹی وی شوز کا پیدا کردہ ہے جہاں ہر کوئی ماہر قانون اور ماہر معاشیات بنا ہوتا ہے ۔

کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس یہ مواد کہاں سے آیا کہ پری پرپول ریگنگ ہورہی ہے۔ حکومت پر اپنی حکومت کے دوران پابندیاں لگانے کا کوئی جواز نہیں ۔ الیکشن کمیشن نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا ہے اگر الیکشن کمیشن دو ماہ قبل بھرتیوں اور ترقیاتی منصوبوں پر پابندی لگاسکتی ہے تو پھر تو دو ڈھائی سال پہلے بھی پری پول ریگنگ کے نام پر ایسا کرسکتی ہے۔ 

الیکشن کمیشن کو اس بات کا اختیار حاصل ہی نہیں۔ کامران مرتضیٰ نے مزید کہا کہ بیورو کریسی نے ہزاروں آسامیاں چھپا کر بیٹھی ہوئی تھیں ۔اب موجودہ حکومت ان آسامیوں پر بھرتی کررہی ہیں۔ یڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شہک بلوچ نے کہاکہ ڈائریکٹر جنرل خزانہ اینڈ اکاؤنٹس نے رپورٹ دی تھی کہ صوبے میں پینتیس ہزار سرکاری آسامیاں خالی ہیں اور اگر اسے رواں مالی سال میں پرنہ کیا گیا تو یہ ختم ہوجائیں گی۔ بعد میں محکمہ خزانہ نے بتایاکہ آسامیوں کی تعداد پچیس ہزار ہیں۔جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ پہلے جو لوگ بھرتی کئے گئے ہیں کیا وہ کام کررہے ہیں یا نہیں ۔

جسٹس کامران ملاخیل نے کہا کہ آسامیوں سے متعلق تنازع ڈاکٹر مالک کے دور سے چل رہا ہے ۔ اتحادی آپس میں لڑ پڑے ۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن آزاد ہے ۔ الیکشن کمیشن میں ہمارے سینئر سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز بیٹھے ہوئے ہیں ہم ان کے فیصلے کو کیسے چیلنج کرسکتے ہیں۔ 

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیاکہ بتایاجائے کہ الیکشن کمیشن کے حکم کو کہیں چیلنج کیاجاسکتاہے تو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شہک بلوچ نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کہیں بھی چیلنج کیاجاسکتاہے ۔کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا کہ آرٹیکل199کے تحت آپ کو اختیار حاصل ہے ۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ سینیٹر آغا شاہ زیب کیس کی مثال موجود ہے جس میں آٹھ ماہ سے ہائی کورٹ نے حکم امتناع دے رکھا ہے۔ 

جسٹس کامران ملاخیل نے کہا کہ پی ٹی آئی پارٹی فنڈ کیس کو لاہور ہائی کورٹ نے واپس کردیا تھا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہاگر ہم کوئی آرڈر کرتے ہیں تو اس کا ملک بھر پراثر ہوگا ۔بہتر ہوگا کہ ہم الیکشن کمیشن کے جواب کا انتظار کریں۔ اس موقع پر عدالت میں موجود وفاق کی نمائندگی کرنے والے سرکاری وکیل سے جسٹس کامران ملاخیل نے پوچھا کہ آپ کیوں خاموش ہیں۔ 

آپ وفاق اور الیکشن کمیشن میں کس کی نمائندگی کررہے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ وہ دونوں کی نمائندگی کررہے ہیں۔ جسٹس کامران ملاخیل نے کہا کہ بظاہر تو آپ وفاق کو سپورٹ کررہے ہیں۔ کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا کہ بھرتیوں کے عمل سے ہزاروں لوگوں کا مستقبل وابستہ ہے۔ جسٹس کامران ملاخیل نے کہا کہ یہ ہزاروں لوگوں کے مستقبل نہیں صرف چند ارکان کا مسئلہ لگ رہا ہے۔ 

کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہاکہ الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن کس قانون کے تحت ہے اس لئے ہم نے ہائی کورٹ سے رجوع کیاہے ۔کیا الیکشن کمیشن کے ممبران کو کو رات کو خواب آیا کہ انہوں نے یہ آرڈر جاری کیا؟اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے سے استفسار کیاکہبھرتیوں کیلئے جو اشتہار دیا گیا ہے کیا وہ قانون کے مطابق ہے۔ کیا آرٹیکل27کے تحت کوٹہ سسٹم دسمبر2013ء سے ختم نہیں ہوگیا۔ 

کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہاکہ مذکورہ ایکٹ کو کسی نے چیلنج ہی نہیں کیا ۔جس پر جسٹس کامران ملاخیل بولے کہ کیا ہم بھی اس پر آنکھیں بند کرلیں ؟ ۔کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا کہ کوٹہ سسٹم ختم ہونے سے دوسرے صوبوں کے لوگوں کیلئے دروازے کھل جائیں گے۔کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا کہ جن آسامیوں پر بھرتیاں کی جانی ہیں ان میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی بھرتی بھی شامل ہیں۔ امن وامان کی موجودہ صورتحال میں کچھ ہوا تو پھر ذمہ دار کون ہوگا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ جس طریقے سے سرکاری ملازمتوں پربھرتیاں ہورہی ہے کیا وہ آئینی اور قانونی ہے آپ جنوری سے اب تک کاریکارڈ منگوالیں ۔جس پر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہاکہ میں آپ کے پاس کسی اور مقصد اور سوال کے تحت آیا ہوں ۔اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ آپ نماز بخشوانے آئے ہیں کہیں روزے گلے نہ پڑھ جائیں ۔

پارلیمنٹرین اپنا حاصل کام کیوں نہیں کرتے۔ کیوں نالیاں بنانے اور بھرتیوں میں لگ گئے۔ مسلم خاکربوں کو بھرتی کیا جاتا ہے جو پھر کہتے ہیں کہ ہم کیوں کام کریں ہم تو مسلمان ہیں۔ عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور صوبائی الیکشن کمیشن کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے آج بروز منگل کو طلب کر تے ہو ئے سما عت ملتوی کر دی ۔