|

وقتِ اشاعت :   April 21 – 2018

کوئٹہ:  اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید درانی نے کہا ہے کہ زندگی کے نشیب وفرازنے دوسروں کی خدمت کا سلیقہ سکھایا ہے معاشرتی بگاڑ سے مایوس نہیں سیاست عوام کی خدمت کا نام ہے ۔ صوبے میں آباد افراد کے درمیان رابطوں کا فقدان معاشرتی مسائل میں اضافہ کی اہم وجہ ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔کوئٹہ پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید درانی کا کہنا تھا کہ معاشرتی بگاڑ کی وجہ سے صوبے سے قابل افراد مایوس ہوکر بیرون ملک اور دیگر صوبوں کو منتقل ہورہے ہیں ۔

ذہین افراد کا بلوچستان کو تیزی سے چھوڑ کر جانا ہماری آئندہ نسلوں کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت تنہا صوبے کو درپیش چینلجز کا مقابلہ نہیں کرسکتی گھمبیر مسائل کے حل کیلئے معاشرے کے تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنا کرداد ادا کرنا چایئے ۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں صحافی انتہائی نامساعد حالات سے دوچار ہیں ۔ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے شہادت کے رتبہ پر فائز ہونے والے صحافیوں کا غم آج بھی انکو ستاتا ہے ۔ تاہم خوشی ہے کہ نامساعد حالات کے باجود یہاں کے صحافیوں نے ہمیشہ مثبت رپورٹنگ کو اپنے قلم کی نوک پر رکھ کر معاشرے میں موجود خامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے مسائل کے حل کی راہ متعین کی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ صحافت اور سیاست کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے جس کیلئے صحافیوں کو چاہیے کہ وہ خبر کے دونوں پہلوؤں سے قارئین کو روشناس کرائیں ۔ان کا کہنا تھا کہ صحافی کوئٹہ شہر کے مسائل پر ورکشاپس کا انعقاد کرکے مسائل کے ذمہ داروں اور ان مسائل سے متاثرہ دونوں افراد کو آپس میں بٹھا کر ان مسائل کا حل تلاش کریں ۔

اس موقع پرانہوں نے کوئٹہ پریس کلب کے چھت کی مرمت اور چاردیواری کی تعمیر سمیت لائبریری کے لیے کتابوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ۔ 

کوئٹہ پریس کلب پہنچنے پر کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضاالرحمن ، جنرل سیکرٹری عبدالخالق رند، بلوچستان یونین آف جرنلسٹ کے صدر خلیل احمد نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید درانی کا استقبال کیا جبکہ اس موقع پر سینئر صحافی سلیم شاہد، شہزادہ ذوالفقار، مجیب احمد ، بنارس خان، ڈی جی پی آر شہزادہ فرحت سمیت دیگر صحافی بڑی تعداد میں موجود تھے ۔ اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے ایک ایک کرکے اپنے سینئر صحافیوں سے انکی خیریت دریافت کی ۔