کوئٹہ: سپریم کورٹ کے حکم پر بلوچستان میں وی آئی پیز کی سیکورٹی پر مامور700سے زائد پولیس اہلکار واپس لے لئے گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر بلوچستان میں ارکان اسمبلی، سابق پارلیمنٹرین، سابق بیورو کریٹس ،ریٹائرڈ پولیس آفیسران سمیت اہم سیاسی ، قبائلی اور مذہبی شخصیات کی سیکورٹی پر مامور پولیس کے331اور بلوچستان کانسٹبلری کے429اہلکاروں کو واپس بلالیا گیا۔
لیویز فورس نے کئی اہم شخصیات سے سیکورٹی پر مامور اہلکاروں کو واپس طلب کرلیا۔ ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے وی آئی پیز کی سیکورٹی پر مامور اہلکاروں کو واپس بلانے کا حکم موصول ہوگیا ہے۔ ہم نے اہلکاروں کی واپسی کیلئے سارا میکنزم تیار کیا ہے۔
ہمارے تین سو کے لگ بھگ اہلکار وزراء، ججز، قبائلی و سیاسی عمائدین کے ساتھ ڈیوٹی دے رہے ہیں ہم نے ان کی واپسی کیلئے سمری بجھوادی ہے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کررہے ہیں تاہم جن اہم شخصیات اور افراد کو خطرات لاحق ہیں ان سے سیکورٹی واپس نہیں لی جارہی۔
دریں اثناء صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی سے سیکورٹی واپس لینے پر شدید نارضگی کا اظہار کر تے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان حالات جنگ میں ہے صوبائی وزراء اراکین اسمبلی اور سیاسی قیادت سے سیکورٹی لینا اچھا عمل نہیں ہے پولیس صوبائی وزراء اور عوام سمیت کوئی محفوظ نہیں ہے اب عام انتخابات پر جا رہے ہیں ۔
بلوچستان میں ایسے بھی علاقے ہیں جہاں پر سیکورٹی کے بغیر کوئی انتخابی مہم نہیں چلا سکتے اس لئے اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے صوبائی وزراء شیخ جعفر خان مندوخیل، میر عاصم کر د گیلو اراکین اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران اور حاجی اسلام بلوچ نے بلوچستان اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کر تے ہوئے کیا ۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ سیکورٹی کے حوالے سے جو فیصلہ ہوا ہے یہ نیک نیتی پرنہیں ہوا بلوچستان کے حالت دوسرے صوبوں کے مقابلے میں مختلف ہے اور یہاں پر حالات ٹھیک نہیں ہے کئی واقعات رونما ہوئے صوبائی وزراء اراکین اسمبلی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین پر خودکش حملے اور اغواء کے واقعات رونما ہوئے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے حالات ماضی کے مقابلے میں بہتر تو ہوئے ہیں ۔
لیکن اتنے بھی اچھے نہیں کہ ہم سیکورٹی لی جائے سیکورٹی کے بغیر ہم انتخابی مہم نہیں چلا سکتے سب کو پتہ ہے کہ یہاں پر حالات خراب ہے اور چالیس سال سے جو جنگ ہم پر مسلط کی ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں سپریم کورٹ کی جانب سے سیکورٹی واپس لینے سے متعلق جو فیصلہ کیا ہے اس پر نظر ثانی کیا جائے اور ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں ایسے علاقے بھی ہے جہاں پر کوئی بھی نہیں جا سکتا۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہم نظر ثانی کی اپیل کر تے ہیں کہ سیکورٹی کے حوالے سے فیصلہ واپس لیا جائے اور عوام کے نمائندوں کو مزید بہتر سیکورٹی فراہم کی جائے بلوچستان حالات جنگ میں ہے صوبائی وزراء اراکین اسمبلی اور سیاسی قیادت سے سیکورٹی لینا اچھا عمل نہیں ہے پولیس صوبائی وزراء اور عوام سمیت کوئی محفوظ نہیں ہے اب عام انتخابات پر جا رہے ہیں بلوچستان میں ایسے بھی علاقے ہیں جہاں پر سیکورٹی کے بغیر کوئی انتخابی مہم نہیں چلا سکتے اس لئے اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔
بلوچستان، وی آئی پیز کی سیکورٹی پر مامور7سو اہلکار واپس
![]()
وقتِ اشاعت : April 22 – 2018