کوئٹہ: کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کی ایک اور واردات میں بلوچستان شیعہ کانفرنس کے رہنماء سمیت ہزارہ برادری کے دو افراد جاں بحق اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ اتوار کی دوپہر تھانہ بروری کی حدود میں شہر کے نواحی علاقے مغربی بائی پاس کلی میروائس بابا کے قریب پیش آیا۔جہاں دو موٹر سائیکلوں پر سوار ہزارہ برادری کے تین افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کے مطابق اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں تینوں افراد شدید زخمی ہوئے جنہیں بولان میڈیکل ہسپتال پہنچایا گیا۔ ہسپتال میں دو زخمی دم توڑ گئے۔
جاں بحق افراد کی شناخت پچاس سالہ محمد زمان ولد حاجی حکیم اور محمد علی ولد حسن علی کے نام سے ہوئی۔ دونوں ہزارہ ٹاؤن کے رہائشی تھے۔ محمد علی ہزارہ بلوچستان شیعہ کانفرنس کا رہنماء اور ہزارہ ٹاؤن کی امام بارگاہوں کا سیکورٹی انچارج تھا۔
پولیس کے مطابق زخمی کی شناخت ستائیس سالہ سفر علی ولد علی محمد کے نام سے ہوئی ہے جو محکمہ پولیس میں ملازم ہے اور وقوعہ کے وقت سادہ کپڑوں میں ملبوس تھا۔ ڈاکٹر کے مطابق تینوں افراد کو سر ، چہرے اور سینے پر گولیاں ماری گئیں۔ زخمی کو ایک گولی گردن میں لگی ہے اور دوسری گولی ماتھے پر چھوکر گزری ہے اسے آپریشن تھیٹر میں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد مزید علاج کیلئے سی ایم ایچ منتقل کردیا گیا۔
زخمی پولیس اہلکار علمدار روڈ مومن آباد کار ہائشی اور بلوچستان شیعہ کانفرنس کے رہنماء سید مسرت آغا کا سرکاری محافظ بتایا جاتا ہے۔ فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی پولیس ، سی ٹی ڈی ، سی آئی اے، کرائم برانچ کی تفتیشی ٹیمیں اور ایف سی اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔ تفتیشی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور موٹرسائیکلوں پر سوار تھے جو فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے۔ واردات میں نائن ایم ایم پستول کا استعمال ہوا ہے۔ جائے وقوعہ سے دس سے زیادہ خول ملے ہیں۔
کوئٹہ ٹارگٹ کلنگ میں ہزارہ برادری کے دو افراد جاں بحق
![]()
وقتِ اشاعت : April 22 – 2018