|

وقتِ اشاعت :   April 30 – 2018

کوئٹہ: کوئٹہ میں ہزارہ قبیلے کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف شہر کے مختلف مقامات پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ سماجی کارکن جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ نے دوسرے روز بھی بھوک ہڑتال جاری رکھی جبکہ مغربی بائی پاس کو دوسرے روز بھی رکاوٹیں کھڑی کرکے ٹریفک کیلئے بند رکھا گیا۔ 

بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر سید داؤد آغانے علمدار روڈ پر احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ ہزارہ اور شیعہ مسلک کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ بند نہ ہوئی تو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا جائیگا۔تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں رواں ماہ کے دوران ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ہزارہ برادری کے پانچ افراد قتل ہوئے۔ ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے خلاف کوئٹہ میں ہزارہ برادری سراپا احتجاج بن گئی ہے۔ 

پریس کلب کوئٹہ کے باہر سماجی کارکن جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ کی سربراہی میں احتجاجی کیمپ لگایا گیا۔ کیمپ میں خواتین و مردوں نے شرکت کی۔ مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی کیمپ میں شرکت کرکے یکجہتی کا اظہار کیا۔ کیمپ میں جلیلہ حیدر اپنے ساتھیوں سمیت بھوک ہڑتال پر بیٹھی ہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔ آئے روز ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں ہورہی ہیں۔ بیس سالوں سے قتل عام کیا جارہا ہے ۔ ہزاروں ماؤں کی گود اجاڑی گئیں ، بچوں کو یتیم کیا گیا ، لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں لیکن حکمرانوں کو شرم اور احساس تک نہیں ۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کوئٹہ آکر خود اپنی نگرانی میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کریں اور ہزارہ برادری کو تحفظ فراہم کریں۔ ادھر ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ہزارہ ٹاؤن کے رہائشیوں نے مغربی بائی پاس کو ہزارہ قبرستان کے قریب دوسرے روز بھی بند رکھا۔ 

انہوں نے سڑک پر کیمپ لگاکر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ کیمپ میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔مظاہرین نے ہزارہ قبیلے کے افراد کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے باعث مغربی بائی پاس پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہیں اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔ مقامی لوگوں اور ٹرانسپورٹروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ 

دوسری جانب کوئٹہ میں علمدار روڈ پر بلوچستان شیعہ کانفرنس کی میزبانی میں جلسہ ہوا۔ جلسے میں بلوچستان شیعہ کانفرنس ،ہزارہ قومی جرگہ، مجلس وحدت مسلمین سمیت ہزارہ اور شیعہ تنظیموں کے رہنماؤں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے عہدے داران بھی شریک ہوئے۔

جلسے سے بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر داؤد آغا، ہزارہ قومی جرگہ کے عبدالقیوم چنگیزی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں شیعہ مسلک کے افراد اور ہزارہ قبیلے افراد کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے۔ 

دو دہائیوں کے دوران ہزارہ قبیلے کے دو ہزار سے زائد افراد دہشتگردی کے واقعات میں اپنی جانیں کھوچکی ہیں جبکہ پانچ ہزار سے زائد زخمی اور معذور ہوچکے ہیں اس طرح ہزارہ قبیلے کے سات ہزار خاندان براہ راست دہشتگردی سے متاثر ہوئے ہیں۔

یوں قلیل آبادی رکھنے والی ہزارہ قبیلہ پاکستان میں دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا قبیلہ ہے۔ لاشیں اٹھا اٹھاکر ہماری قوم کے لوگ تھک گئے ہیں۔ 

قدم قدم پر چیک پوسٹوں کے باوجود دہشتگرد کس طرح فرار ہوجاتے ہیں اس سوال کا جواب حکمرانوں اور بااختیار اداروں کو دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیکورٹی ادارے تحفظ فراہم نہیں کرسکتے تو تنخواہ کس بات کی لیتے ہیں۔ ہم چیخ چیخ کر امن اور زندگی مانگ رہے ہیں لیکن ہماری کوئی نہیں سن رہا۔ وزیراعلیٰ نے کبھی علمدار روڈ آکر ہمارے احساسات نہیں پوچھے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل ضیاء کے پیدا کئے ہوئے فساد نے آج ہمیں تباہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی کا بازار گرم ہے ان حالات میں بلوچستان شیعہ کانفرنس نے تمام تنظیموں کو اکٹھا کیا ہے ، ہم دہشتگردی کے خلاف یک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہوئے ہیں اور اس کے تحت مؤثر آواز بلند کرینگے۔ ریاستی ادارے اگر ہمارے تحفظ کیلئے سنجیدہ نہیں تو دنیا کے کونے کونے تک احتجاج کو وسعت دے دینگے۔ 

اسلام آباد جاکر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرکے اپنے تحفظ کا مقدمہ لڑینگے۔ ہم اپنے تحفظ کی خاطر ہر اس دروازے کو کھٹکٹھائیں گے جہاں سے ہمین انصاف ملنے کی توقع ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایران اور نہ ہی افغانستان کے نوکر ہیں۔ ہم اپنے ملک میں درپیش مسائل کے حل کیلئے لڑرہے ہیں اور تحفظ کا مطالبہ کررہے ہیں۔