کوئٹہ: کوئٹہ میں 160سے زائد افراد کے قتل میں ملوث کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر کو گرفتار کرلیا گیا۔ حکومت بلوچستان نے ملزم کے سر کی قیمت لاکھ روپے مقرر کی تھی۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورائیہ نے کوئٹہ میں ایف سی کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر تصور ستار کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محمد رحیم محمد شہی کالعدم لشکر جھنگوی کا اہم کمانڈر ہے اور اسے کوئٹہ کے علاقے سریاب ویلیج ایڈ میں اپنے گھر سے گرفتار کیا گیا۔
چھاپے کے دوران ایک دستی بم اور پستول بھی برآمد کیاگیا۔گرفتار دہشتگرد تنظیم میں کیپٹن اور ڈاکٹر کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور وہ 2012ء سے 2014ء کے دوران ٹارگٹ کلنگ اور خودکش دھماکوں کے ذریعے ایک سو ساٹھ سے زائد افراد کو قتل کرنے میں ملوث ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران گرفتار دہشتگرد کا اعترافی ویڈیو بیان بھی دکھایا گیا جس میں اس نے فروری 2013ء میں ہزارہ ٹاؤن کی سبزی منڈی میں بارود سے بھرے واٹر ٹینکر کے ذریعے خودکش دھماکا کرانے کا اعتراف بھی کیا۔ اس حملے میں ایک سو دس افراد جاں بحق اور دو سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ نشانہ بننے والوں میں اکثریت کا تعلق ہزارہ برادری سے تھا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق محمد رحیم عرف کیپٹن جون 2013ء میں کوئٹہ کی سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی اور اس کے بعد بولان میڈیکل ہسپتال میں خودکش دھماکے میں بھی ملوث تھا جس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ عبدالمنصور کاکڑ اور چودہ طالبات سمیت کم از کم تیس افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
گرفتار دہشتگرد اکتوبر2014ء میں ہزارگنجی سبزی منڈی جانیوالے مزدا بس پر فائرنگ کرکے نو افراد کو قتل کرنیوالے گروہ کا بھی حصہ تھا۔ ملزم نے ایف سی بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر خان واسع پر قاتلانہ حملہ بھی کیا تھا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے تھے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں بدامنی پھیلانیوالے دہشتگرد افغانستان سے تربیت سے لیکر آتے ہیں۔ پاکستان سے ملحقہ افغان سرحدی علاقوں میں دہشتگردی کے کئی کیمپ موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی حالیہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشتگرد گروہ کی نشاندہی کرلی ہے جسے جلد گرفتار کرلیا جائیگا۔
انہوں نے کہا کہ گرفتار دہشتگرد محمد رحیم نے ابتدائی تفتیش کے دوران2011 کے آخر اور2012 کے شروع میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر ولی اللہ سے ملاقات کی اور ان کی جماعت میں شمولیت اختیارکر کے دہشت گردی کی متعدد وارداتوں کا انکشاف کیا ہے جس میں انہوں نے اپنے دیگر ساتھیوں کے نام بھی بتائے جو مختلف پولیس مقابلوں کے دوران مارے جا چکے ہیں۔ اپنے ساتھیوں کے مارے جانے کے بعد ملزم 2015ء سے روپوش ہوگیا تھا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے مزید کہا کہ حالیہ واقعات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لئے پولیس، سٹی ڈی، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار گرفتار کے لئے کام کر رہے ہیں اور سہولت کاروں کو بھی قانون کے شکنجے میں جھکڑا جا رہا ہے ۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہم دہشت گردی سمیت ٹارگٹ کلنگ کے جتنے بھی کیسز ان پر مختلف ٹیمیں کام کر رہی ہے اس وقت ہزارہ برادری اور کرسچن کمیونٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس سے قبل آر آر جی ، ایف سی اور پولیس کے جوانوں پر بھی حملے ہوئے ہیں ۔
کوئٹہ میں کسی بھی قومیت سے تعلق رکھنے والے اتنے لوگ دہشت گردی یا ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ نہیں بنے جتنے پولیس اہلکار بنے ہیں سی ٹی ڈی کو ٹارگٹ ملا ہے کہ ہزارہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور ہم عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے دن رات کام کر رہے ہیں ۔
انٹیلی جنس بیسڈ اطلاعات کی روشنی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے جا رہے ہیں جو سی ٹی ڈی، فرنٹیئر کور ، پولیس اور حساس اداروں کے اہلکار کر رہے ہیں داعش کی موجودگی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں داعش موجود نہیں لیکن چھوٹے چھوٹے گروپ فنڈنگ کے لئے نام استعمال کر رہے ہیں جس طرح کالعدم تنظیمیں بھی داعش کیساتھ مل کر ان کا نام استعمال کر کے مختلف نامو ں سے کام کر رہے ہیں نام بدل رہے ہیں لیکن چہرے وہی ہے ۔
انہوں نے کہا ہے کہ بارڈر فینسنگ پر کام جاری ہے جس سے پورس بارڈر کو کور کرنے اور ہمسایہ ملک سے بلا روک ٹوک آنے جانے والے لو گوں کا راستہ روکنے میں مدد ملے گی انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے ٹارگٹ کلرز اور دہشت گردی میں ملوث ملزمان کا سینٹرل ڈیٹا پیس بنایا ہے تاکہ اس سسٹم کے تحت صحیح معلومات کی روشنی میں ملزمان تک پہنچا جا سکے ہمسایہ ملک میں دہشت گردوں کے کیمپ موجود ہے جن میں مختلف گروپ تربیت فراہم کر رہے ہیں ۔
ایک اور سوا ل کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ افغان مہا جرین کی واپسی کے حوالے سے حکومت اور ادارے اپنی اپنی حدود میں کام کر رہے ہیں سیکورٹی فورسز اور عوام مل کر اس جنگ میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ۔
یہ جنگ فورس اکیلے نہیں لڑ سکتی اس میں ہرمکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا وسائل کی فراہمی وفاقی اور صوبائی حکومت مکمل طور پر تعاون فراہم کر رہی ہے انہوں ںے کہا ہے کہ ہر ادارے کی اپنی اپنی حدود ہے جس کی روشنی میں وہ کام کر رہی ہے ۔
ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ ،سریاب میں آپریشن کالعدم تنظیم کا کمانڈر گرفتار
![]()
وقتِ اشاعت : May 1 – 2018