کوئٹہ: کوئٹہ میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ہزارہ قبیلے کے افراد کی جانب سے ان کے قبیلے کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ چار روز سے جاری احتجاج میں شریک افراد نے پانچ مختلف مقامات پر بھوک ہڑتالی کیمپ اور دھرنے دے رکھے ہیں۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ آرمی چیف کوئٹہ آکر انہیں سیکورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائے۔کوئٹہ میں رواں ماہ ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے دس سے زائد واقعات میں تئیس افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے ہیں۔ نشانہ بننے والوں میں ہزارہ برادری کے پانچ افراد بھی شامل ہیں۔
احتجاج کا سلسلہ انتیس اپریل کو جمال الدین افغانی روڈ پر ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے چچا اور بھتیجے کے قتل کے بعد شروع ہوا۔ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ چار روز سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے تادم بھوک ہڑتال پر بیٹھی ہیں۔ ان کی طبیعت بگڑنا شروع ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر نے کیمپ میں جاکر ان کا طبی معائنہ بھی کیا۔
پریس کلب کے سامنے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء سابق رکن قومی اسمبلی آغا ناصر عباس ہزارہ بھی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔مجلس وحدت مسلمین سے تعلق رکھنے والے وزیرقانون بلوچستان آغا سید رضا ہزارہ بھی احتجاج کا حصہ بن گئے ہیں۔
انہوں نے صوبائی اسمبلی کے سامنے دوسرے روز بھی دھرنا دیا۔ بلوچستان شیعہ کانفرنس اور دیگر تنظیموں کی جانب سے علمدار روڈ پر دھرنا دیا گیا ہے۔ ہزارہ برادری کا سب سے بڑا احتجاج ہزارہ ٹاؤن سے ملحقہ مغربی بائی پاس پر ہورہا ہے۔ جہاں گزشتہ چار دنوں سے دھرنا دے کر شہر کی مصروف شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند رکھا گیا ہے۔ اس احتجاج میں سینکڑوں خواتین اور بچے بھی شریک ہیں۔
احتجاج میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ ہزارہ برادری گزشتہ بیس سالوں سے مسلسل دہشتگردی کا نشانہ بن رہی ہے۔ دو ہزار سے زائد افراد ان واقعات میں لقمہ اجل بن چکے ہیں اور پانچ ہزار سے زائد معذور یا زخمی ہوئے ہیں۔
احتجاج میں شریک فرسٹ ایئر کی طالبہ بتول کا کہنا ہے کہ ہمارے بچے محفوظ ہیں اور نہ ہی بڑے، خواتین اور بزرگوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ ہمیں صرف اپنی آبادی والے علاقوں تک محدود کردیا گیا ہے۔ ہم کالج جاسکتے ہیں اور ہی خریداری کیلئے بازار۔انہوں نے کہا کہ ہم صوبائی اور مرکزی حکومت کے کسی نمائندے ۔
کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کیخلاف ہزارہ کمیونٹی اور مجلس وحدت کے دھرنے جاری
![]()
وقتِ اشاعت : May 2 – 2018