کوئٹہ: پولیس کے روئیے سے تنگ شخص نے کوئٹہ میں بلوچستان ہائی کورٹ کے سامنے مشتعل انداز میں احتجاج کیا اورہوائی فائرنگ کی۔ ایف سی اور پولیس اہلکاروں نے مشتعل شخص کو گرفتار کر کے بجلی روڈ تھانے منتقل کر دیا ۔
پولیس کے مطابق قلعہ عبداللہ کے رہائشی حاجی گل محمد نامی شخص کے خلاف تھانہ کچلاک میں ٹریفک حادثے کا مقدمہ درج تھا۔ پولیس کے روئیے سے تنگ آکر حاجی گل پستول اٹھائے بلوچستان ہائی کورٹ کے سامنے پہنچا اور ہوائی فائرنگ کی اور زور زور سے چیختا چلاتا رہا۔ اس دوران ہائی کورٹ کے سامنے حالی روڈ پر ہر قسم کی ٹریفک معطل ہوگئی۔
مشتعل شخص نے پولیس کے رویے کے خلاف چیختے چلاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ’’یہ کیسا انصاف ہے،یہ انصاف کا دفتر ہے یہاں انصاف ہونا چاہیے‘‘۔ اس دوران پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری پہنچ گئی اور مشتعل شخص کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ احتجاج ختم کرنے پر راضی نہ ہوا۔
اس دوران ایف سی اہلکاروں نے اچانک دھاوا بول کر مشتعل شخص گل محمد کو قابو کرلیا اور اسلحہ سمیت پولیس کے حوالے کردیا۔پولیس نے ملزم کو تھانہ بجلی روڈ منتقل کردیا گیا جہاں اس کے خلاف ہوائی فائرنگ اور خوف و ہراس پھیلانے سمیت مختلف دفعات کے تحٹ مقدمہ بھی درج کرلیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم گل محمد کے خلاف تھانہ کچلاک میں ٹریفک حادثے کا مقدمہ درج ہے۔ ملزم کا مؤقف ہے کہ اس نے گاڑی اپنے کسی جاننے والے کو دی تھی جس کے ہاتھوں حادثہ پیش آگیا تھا اب مدعی کے کہنے پر پولیس نے انہیں بھی مقدمے میں نامزد کردیا ہے۔
ملزم کا کہنا ہے کہ جب وہ گاڑی چلاہی نہیں رہا تھا تو مقدمہ کیوں اس کے خلاف درج کیا گیا۔ گل محمد شکایت کیلئے ڈی آئی جی کوئٹہ کے پاس بھی گئے لیکن شنوائی نہ ہونے کے باعث وہ مشتعل ہوا اور ہائی کورٹ کے سامنے مشتعل انداز میں احتجاج کیا۔ حراست میں لئے جانے کیبعد گل محمد نے پولیس کا بتایا ہے کہ وہ بلڈ پریشر کا مریض ہے اور اسے اس انداز میں احتجاج کرنے کا مشورہ ایک وکیل نے دیا تھا۔
کوئٹہ، پولیس رویئے سے تنگ شخص کا عدالت میں فائرنگ
![]()
وقتِ اشاعت : May 3 – 2018